امامت و جماعت

نابالغ کی بچے کی امامت

فتوی نمبر :
57341
| تاریخ :
2020-10-26
عبادات / نماز / امامت و جماعت

نابالغ کی بچے کی امامت

کیا کم عمر حافظ قرآن بچے کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے ؟؟ہالاں کے بڑی عمر کے لوگ موجود ہوں مسجد میں ؟؟؟اور کیا امامت کروانے کے لیئے حافظ قرآں ہو نا لازم ہے

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کم عمر حافظ قرآن بچہ اگرنابالغ ہو ، تو اس کی اقتداء میں بالغ لوگوں کی نماز شرعادرست ادا نہ ہوگی، کیونکہ نابالغ کی نماز نفل ہوتی ہے، جبکہ بالغ افراد کی نماز فرض ہوتی ہے، اور نفل پڑھنے والے کی اقتداء فرض پڑھنے والے کی نماز درست نہ ہوتی ۔ اس لیے اگرچہ نابالغ بچہ حافظ قرآن بھی ہو ، تب اس کو امام بنا کر اس کی قتداء میں فرض نماز کی ادائیگی شرعادرست نہیں۔
جبکہ امام کے لیے امام کا حافظ قرآن ہوناضروری نہیں، بلکہ بوقت ضرورت ہروہ شخص امامت کراسکتاہے، جس کی قراءت میں ایسی غلطی نہ ہو جس سے نماز فاسد ہونے کا اندیشہ ہو، البتہ مستقل طورپر امامت کے لیے باقاعدہ ایسے عالم باعمل کا انتخاب کرنا ضروری ہے، جو قراءت کی درستگی کے ساتھ ساتھ نماز کے مسائل سے بھی واقف ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی فتاوی التاتارخانیۃ:
"ولا تجوز إمامة الصبي في صلاۃ الفرض." (251/2)

وفی فتاوی الشامیۃ:
"وأما شروط الإمامة فقد عدها في نور الإيضاح على حدة، فقال: وشروط الإمامة للرجال الأصحاء ستة أشياء: الإسلام والبلوغ والعقل والذكورة والقراءة والسلامة من الأعذار كالرعاف والفأفأة والتمتمة واللثغ وفقد شرط كطهارة وستر عورة." (550/1۔ ط:سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شفیع اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 57341کی تصدیق کریں
1     3305
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات