علی نے اپنی بیوی ساجدہ سے کہا تم قانون کی ڈگری پاس کر لو ساجدہ تو کسی بھی مرد کی وکیل بن سکتی ہو، اور اس شعبہ میں آمدنی کافی ہے
مذکورہ جملہ بولنے سے علی کی بیوی ساجدہ علی کی وکیل بن کر علی کا نکاح تو ختم نہیں کرسکتی جبکہ علی نے صرف وکالت کا پیشہ اختیار کرنےکا حکم ساجدہ کو دیا ایک شخص نے کہا کہ مذکورہ جملہ تم نے بول کر ساجدہ کو علی کا وکیل بنا دیا ہے اب جب چاہے ساجدہ علی کے نکاح کو ختم کر دے ؟
صورت مسئولہ میں علی کا بیوی کو سوال میں مذکورجملہ بولنےسے مراد اس پیشہ سے وابستگی اور اس کی جازت ہے، نہ کہ اسے اپنے نکاح ختم کرانے کا وکیل مراد ہے، اس لیے ساجدہ قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے باجود بھی اپنے شوہر علی کی اجازت کے بغیر اس کے ساتھ کیا ہوا نکاح ختم نہیں کرسکتی ۔لہذا مذکورشخص کا یہ کہنا کہ اس جملہ کے بعد ساجدہ جب چاہے علی سے اپنا نکاح ختم کراسکتی ہے، قطعاغلط اور بلادلیل ہے۔