امامت و جماعت

اپنےگھرسے امام مسجد کی قتداء کرنا

فتوی نمبر :
57404
| تاریخ :
2020-10-26
عبادات / نماز / امامت و جماعت

اپنےگھرسے امام مسجد کی قتداء کرنا

السلام علیکم
مفتی صاحب میں جمعہ کی نماز مسجد کے بجائے گھرپر پڑھ سکتاہوں جماعت کے ساتھ؟ مسجد چھوٹی ہونے کی وجہ سے دقت ہوتی ہے، کیا یہ صحیح ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اقتدا درست ہونے کے لیے امام اور مقتدی کے مکان کا متحد ہونا شرط ہے خواہ یہ اتحاد حقیقتا ہو یا حکما، حقیقتاً جگہ متحد ہونے کی مثال یہ ہے کہ امام اور مقتدی دونوں ایک ہی مسجد یا ایک ہی گھر میں کھڑے ہوں، اور حکماً جگہ متحد ہونے کی مثال یہ ہے کہ امام اور مقتدی اگرچہ دو الگ الگ جگہوں میں کھڑے ہوں ،لیکن درمیان میں صفیں متصل ہوں، لہذا صورتِ مسئولہ میں امام اورسائل کا اپنے گھر میں نماز پڑھنے کی وجہ سے چوںکہ دونوں الگ الگ مکان میں ہیں، اس لیے سائل کا اپنے گھر سے امام کی اقتداء کرتے ہوئے نماز شرعادرست ادا نہ ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدر:
ولو اقتدی من سطح دارہ متصلة بالمسجد لم یجز لاختلاف المکان ․․․․․․ وقال فی الشامی وان قام علی سطح دارہ ، ودارہ متصلة بالمسجد لایصح اقتداءہ وان کان لا یشتبہ علیہ حال الامام لان بین المسجد وبین سطح دارہ کثیر التخلل فصار المکان مختلفاً (ج: ۲/۳۳۴، الدر مع الرد)
وفی الشامیۃ:
”والصغرى ربط صلاة المؤتم بالإمام بشروط عشرة: نية المؤتم الاقتداء، واتحاد مكانهما وصلاتهما،
(قوله: واتحاد مكانهما) فلو اقتدى راجل براكب أو بالعكس أو راكب براكب دابة أخرى لم يصح لاختلاف المكان؛ فلو كانا على دابة واحدة صح لاتحاده كما في الإمداد، وسيأتي”۔(1 / 549، 550، باب الامامۃ، ط؛ سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شفیع اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 57404کی تصدیق کریں
0     1991
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات