کیا کاغذ پر تین دفعہ طلاق لکھنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے یااس میں کچھ گنجائش ہے؟اور دوسرا یہ کہ طلاق لکھنے سے پہلے ناچیز نے افسوس کا اظہار بھی کیا اور اپنی کچھ غلطیوں کا اعتراف بھی کیا اور پھر اس کے نیچے تین طلاق لکھ کر دیدی۔
واضح ہوکہ تین طلاق خواہ ایک مجلس میں دی جائے یا الگ الگ مجلسوں میں بہر صورت تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں،نیز جس طرح زبانی طلاق دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے، اسی طرح تحریری طور پر طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا سائل نےجب کاغذ پر (بیوی کی طرف نسبت کرتے ہوئے)تین طلاقیں لکھ دی ہیں تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا،اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا،جبکہ عورت عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔