امامت و جماعت

غیر مسلم ممالک میں داڑھی منڈے شخص کی اقتداء میں چرچ کے اندر نماز پڑھنا

فتوی نمبر :
57965
| تاریخ :
2022-08-25
عبادات / نماز / امامت و جماعت

غیر مسلم ممالک میں داڑھی منڈے شخص کی اقتداء میں چرچ کے اندر نماز پڑھنا

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں کینیڈا میں رہتا ہوں اور ہمارے قریب میں کوئی مسجد نہیں ہے ، صرف جمعہ کے دن ڈیڑھ گھنٹہ مسافت طے کر کے جمعہ پڑھنے جاتا ہوں ، اور جمعہ بھی ایک چرچ میں ہوتا ہے، جہاں امامت کرنے والا داڑھی منڈا شخص ہے، جبکہ میں اور ہمارے دوسرے ساتھی الحمدللہ باشرع ہیں، ایسی سورت میں ہمارے لیے وہاں جمعہ پڑھنے جانے کا کیا حکم ہے ؟ جبکہ ہمیں اس شخص کے عقائد کے بارے میں بھی کچھ معلوم نہیں کہ وہ شخص فاسق ہے یا فاجر؟ اس معاملہ میں ہماری راہ نمائی فرماکر عنداللہ ماجور ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ دیندار اور باشرع افراد کے لیے کسی داڑھی منڈے شخص کو اپنے اختیار سے امام بناکر اس کی اقتداء میں نماز ادا کرنا مکر وہ ہے، البتہ اگر کوئی داڑھی منڈا شخص کسی ادارے یا محلےوغیرہ کی طرف سے امام نامزد کیا گیا ہو اور قرب و جوار میں کوئی باشرع اور متبعِ سنت امام موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں بامرِ مجبوری علیحدہ نماز پڑھنے کے بجائے اس کی اقتداء میں نماز ادا کی جاسکتی ہے، لہٰذا سائل اور اس کے ساتھیوں کے لیے اگر قرب و جوار میں کسی مسجد یا مصلی (اور ہال )وغیرہ میں کسی باشرع اور متبعِ سنت امام کی اقتداء میں نماز پڑھنے کی کوئی ترتیب ممکن ہو تو سائل اور اس کے ساتھیوں کو پنج وقتہ اور جمعہ کی ادائیگی کے لیے اس پر عمل کر نا چاہیے ، لیکن اگر ایسا کرنا کسی وجہ سے ممکن نہ ہو ، اور نہ ہی مذکور چرچ کے علاوہ نمازِ جمعہ کے لیے کسی اور جگہ کا انتظام ہو سکتا ہو ، تو ایسی صورت میں بامرِ مجبوری سائل اور اس کے ساتھی مذکور امام کی اقتداء میں نمازِ جمعہ ادا کر سکتے ہیں، لیکن ایسی مجبوری کی صورت میں بھی اس کا خیال رکھنا چاہیے کہ مجسموں اور تصاویر وغیرہ سے ہٹ کر نماز ادا کی جائے اور جلد از جلد نمازِ جمعہ کے لیے کسی مناسب جگہ اور باشرع امام کی نامزدگی کا انتظام کیا جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الدر المختار: وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد، وأخذ كلها فعل يهود الهند ومجوس الأعاجم فتح اھ (2/ 418)
وفيها أیضاً: (ويكره) تنزيها (إمامة عبد) ولو معتقا قهستاني. عن الخلاصة، ولعله لما قدمناه من تقدم الحر الأصلي، إذ الكراهة تنزيهية فتنبه (وأعرابي) ومثله تركمان وأكراد وعامي (وفاسق وأعمى) اھ (1/ 559)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله وفاسق) من الفسق: وهو الخروج عن الاستقامة، ولعل المراد به من يرتكب الكبائر كشارب الخمر، والزاني وآكل الربا ونحو ذلك، كذا في البرجندي إسماعيل. وفي المعراج قال أصحابنا: لا ينبغي أن يقتدي بالفاسق إلا في الجمعة لأنه في غيرها يجد إماما غيره. اهـ. قال في الفتح وعليه فيكره في الجمعة إذا تعددت إقامتها في المصر على قول محمد المفتى به لأنه بسبيل إلى التحول اھ (1/ 560)
وفي غنية المستملى: كراهةتقديمه كراهة تحريم اھ (ص: 479) وفي البحر الرنق: وينبغي ان يكون محل كراهة الاقتداء بهم عند وجود غیرهم و الافلاكراهة اھ (1/349)
وفي الدر المختار: صلى خلف فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة اھ (1/ 562)
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله نال فضل الجماعة) أفاد أن الصلاة خلفهما أولى من الانفراد، لكن لا ينال كما ينال خلف تقي ورع اھ (1/ 562)
وفي صحيح البخاري: وقال عمر رضي الله عنه: «إنا لا ندخل كنائسكم من أجل التماثيل التي فيها الصور» وكان ابن عباس: «يصلي في البيعة إلا بيعة فيها تماثيل» اھ(1/ 94)
وفي حاشية ابن عابدين: [تنبيه] يؤخذ من التعليل بأنه محل الشياطين كراهة الصلاة في معابد الكفار؛ لأنها مأوى الشياطين كما صرح به الشافعية. ويؤخذ مما ذكروه عندنا، ففي البحر من كتاب الدعوى عند قول الكنز: ولا يحلفون في بيت عباداتهم. وفي التتارخانية يكره للمسلم الدخول في البيعة والكنيسة، وإنما يكره من حيث إنه مجمع الشياطين لا من حيث إنه ليس له حق الدخول اهـ قال في البحر: والظاهر أنها تحريمية؛ لأنها المرادة عند إطلاقهم، وقد أفتيت بتعزير مسلم لازم الكنيسة مع اليهود اهـ فإذا حرم الدخول فالصلاة أولى، وبه ظهر جهل من يدخلها لأجل الصلاة فيها اھ (1/ 380)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابو بکر سعید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 57965کی تصدیق کریں
0     740
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات