زید کی بیوی غیر شادی شدہ لڑکوں سے موبائل پر بات کرتی ہے اور ان کو گندی ویڈیوز شیئر کرتی ہے ، زید کو پتہ چلا تو وہ اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا تھا لیکن زید کے بہنوئی نے لڑکی کی والدہ کو بلایا اور لڑکی کی رضامندی سے معافی نامہ لکھا ،جس میں زید کے بہنوئی نے جہیز کی ضمانت لے لی ، لیکن معافی کے دو دن بعد لڑکی کے دوبارہ ایک لڑکے کے ساتھ غیر شرعی تعلقات ہو گئے ، اب زید کے بہنوئی نے لڑکی کے والد سے تحریری طور پر لے لیا کہ وہ جہیز نہیں مانگیں گے ، اور زید کو اپنی بیٹی کو قتل کرنے کی اجازت بھی دی، اب زید نے لڑکی کو طلاق دے دی ، رہنمائی فرمائیں کیا لڑکی کو مہر لینے کا حق ہے؟
صورت مسئولہ میں اگرزید کی بیوی واقعۃ غیرشرعی اور غیر اخلاقی امور میں ملوث ہو، تو یہ گناہ کبیرہ ہے اور زید اسے اپنے نکاح کی بندھن سے آزاد کرسکتاہے، لیکن اگر زید ازخود اسے طلاق دیگا، تو وہ اپنے حق مہر کی حقدار ہوگی، البتہ اگر طلاق کا مطالبہ لڑکی کی جانب سے ہو، اور زید اسے حق مہر کی معافی کے عوض طلاق دیدے ، تو اس کا حق مہر بھی ساقط ہوجائے گا۔
تاہم زید کے لیے اسے قتل کرنا کسی بھی صورت جائز نہیں، اگرچہ اس لڑکی کے والد نے اسے اجازت بھی دے رکھی ہو، اس لیے زید کو اسے قتل کرنے کے بجائے طلاق دیکر والدین کے حوالہ کردینا چاہیئے ۔