السلام علیکم!
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس خاتون کے بارے میں جن کو پہلے دن سے اپنے شوہر اور سسرال کی طرف سے بلا کسی وجہ کے طنز طعنہ مار دھاڑ اور شدید اذیت کا سامنا کرنا پڑا ہو اور ان کے شوھر نہ کمائی میں دلچسپی لیتے ہوں اور نہ بیوی پہ کچھ خرچ کرنا چاہتے ہوں ، بیوی کا مطالبہ ہو کہ دین کے کام میں لگیں وہ اس پہ بھی تیار نہ ہوں،جبکہ خاتون دین کی خدمت کے کاموں میں لگنا چاہتی ہوں اور شوھر اور سسرال کے ساتھ ہر ممکن اچھا سلوک کرتی ہوں ، لیکن وہ کسی چیز کی قدر نہ کریں ، مگر انہوں نےہر وقت خاتون کو طنز طعنہ سے بیزار کر رکھا ہو ،آخر ان کے دل میں یہ خیال آئے تنگ آکر کہ میں ہر وقت یہ طعنہ تشنہ سہہ کر میرا دین اور دنیا دونوں تباہ ہو جائیں اور میں ذہنی طور پر بیمار ہوجاؤں اس کے بجائے ان سے علیحدگی اختیار کر لوں ، کیا ان کا یہ فیصلہ درست ہے؟
صورت مسئولہ کا بیان اگر واقعۃ درست اور مبنی برحقیقت ہو، اس طور پر مذکورہ خاتون کے سسرال بشمول شوہر اسے بے جاطورپر طنز وتشنیع کا نشانہ بنارہے ہوں، تو ان کا یہ طرز عمل شرعاْ اور اخلاقاً ہر اعتبارسے غلط ہے، لیکن کسی بھی دیندار اور سمجھدار خاتون کے لیے دین پر عمل کرنے کی سب سے بہترصورت یہ ہے، کہ وہ اپنے شوہر اور سسرال والوں کے اس غیر شرعی رویہ کو حکمت کے ساتھ درست کرنے کی کوشش کرے، اور اپنی مرضی کے مطابق غیر ضروری چیزوں کے لیے گھر سے باہر جانے وغیرہ تمام امور سے اجتناب کرے،اور محض وقتی امور کی بنیاد پر جذباتی فیصلہ کرکے اپنا گھربرباد نہ کرے۔