کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
(۱) - مجھے بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص مرجائے اور کوئی اس کے لئے سورۃ الملک چالیس مرتبہ پڑھے ، اگلے چالیس دن تک ،انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر ، اور اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر اس مرے ہوئے شخص کو پہنچانے کی درخواست کرے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ سے اس کی مغفرت کی دعا بھی کرے تو مردہ شخص پر قبر کا عذاب نہیں ہوگا، کیا یہ درست ہے اور کیا اس کا حدیث میں بھی ذکر ہے؟
(۲)- میں نے یہ بھی سنا ہے کہ اگر کوئی شخص کلمہ طیبہ ستر ہزار مرتبہ اپنی زندگی کے عرصے میں پڑھ لے وہ نارِ جہنم سے محفوظ رہے گا ، کیا اس کا ذکر حدیث میں ہے اور کیا یہ درست ہے؟
(۳)- میں نے سنا ہے کہ اگر کوئی شخص سورۃ الملک ہر روز سونے سے پہلے پڑھے گا اور اگر وہ اس رات یا اس رات کے بعد دن کو مرجائے تو اس پر عذابِ قبر نہیں ہوگا؟ کیا یہ درست ہے؟
(۴)- اگر کوئی شخص پڑھتا ہے ’’اللّٰہم اجرنا من النار‘‘ سات مرتبہ صبح اور مغرب کی نماز کے بعد تو اس شخص کو جہنم کی آگ میں نہیں جلایا جائے گا، کیا یہ بات حدیث میں ہے اور کیا یہ درست ہے؟
(۱)- سورۃ الملک کے جتنے فضائل احایثِ مبارکہ میں بیان کئے گئے ہیں وہ سب اس شخص سے متعلق ہیں جو خود اس کے پڑھنے کا اہتمام کرتا ہو کسی دوسرے سے متعلق باوجود کوشش کے یہ فضائل نہیں مل سکے البتہ اللہ تعالیٰ کی رحمتِ واسعہ پر پورا اعتماد کرکے ، کوئی کسی کے لئے سورۃ الملک پڑھ کر ایصالِ ثواب کردے تو امید ہے کہ یہ دوسرے کا پڑھنا ضرور اس کیلئے بھی کار آمد ثابت ہوگا۔
(۲)- کسی حدیثِ مبارک سے تو مذکور وظیفہ اور اس کی فضیلت کا علم نہیں ہوسکا البتہ بعض سلفِ صالحین سے ضرور منقول ہے جیسا کہ علامہ قرطبیؒ نے ایک نوجوان کی والدہ کو یہ نصاب بخشا اور اس کی مغفرت ہوجانا مشہور ہے۔
(۳)- احادیثِ مبارکہ میں اس سورت کے دیگر فضائل کے ساتھ یہ بات بھی بیان کی گئی ہے کہ سونے سے پہلے اس کے پڑھنے کا اہتمام کرنے والا عذابِ قبر سے محفوظ رہتا ہے۔
(۴)- یہ بات اسی طرح حدیثِ مبارک سے ثابت ہے بشرطیکہ اسی دن یا اسی رات اس کا انتقال ہوجائے۔
کما فی المشکوٰۃ: عن ابن عباسؓ قال ضرب بعض اصحاب النبی ﷺ خباءہ علی قبر وہو لا یحسب انہ قبر فاذا فیہ انسان یقرأ تبارک الذی بیدہ الملک حتی ختمہا فاتی النبی ﷺ فاخبرہ فقال النبی ﷺ ہی المانعۃ ہی المنجیۃ تنجیہ من عذاب اﷲ۔ (ص۱۸۷)-
کما فی سنن الترمذی: عن جابرؓ قال کان النبی ﷺ لا ینام حتی یقرأ تنزیل السجدۃ وتبارک۔ (ج۲، ص۱۷۷)-
عن مسلم بن الحارث التمیمیؓ عن رسول اﷲ ﷺ انہ اسرالیہ فقال ﷺ اذا انصرفت من صلوۃ المغرب فقل ’’اللّٰہم اجرنی من النار‘‘ سبع مرات فانک اذا قلت ذالک ثم مت فی لیلتک کتب لک جوار منہا واذا صلیت الصبح فقل کذالک فانک ان مت فی یومک کتب لک جوار منہا۔ (ابو داؤد شریف: ج۲، ص۶۹۳)-