کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ فاسق کی تعریف میں ڈاڑھی کا کتروانے والا اور منڈوانے والا داخل ہے یا نہیں؟ حالانکہ فقہاءِ کرام کے کتابوں کے متون میں ہے:ویکرہ تقدیم الفاسق فی باب الجماعۃ
کسی بھی واجبِ شرع کا ترک موجبِ فسق ہے۔ اور ڈاڑھی کا رکھنا اور ایک مشت تک بڑھانا باجماعِ امت واجب ہے اور اس کے خلاف بلاشبہ فسق کی تعریف میں داخل ہے،لہٰذا جو شخص ڈاڑھی مونڈھے یا اسے ایک مشت سے کم کرے ، وہ شرعاً فاسق ہے، اور اسے اپنے اختیار سے امام بنانا جائز نہیں، ایسے شخص کی اقتداء میں نماز پڑھ لینا تاکہ جماعت کا ثواب مل جائے بہتر ہے۔
ففی صحيح البخاري: عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «انهكوا الشوارب، وأعفوا اللحى» (7/ 160)۔
وفی الدر المختار: وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد، وأخذ كلها فعل يهود الهند و مجوس الأعاجم اھ(2/ 418)۔