امامت و جماعت

مریض والدین کی خدمت و دیکھ بھال کی وجہ سے جماعت کی نماز چھوڑنا

فتوی نمبر :
59104
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / امامت و جماعت

مریض والدین کی خدمت و دیکھ بھال کی وجہ سے جماعت کی نماز چھوڑنا

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی شخص کے والدین ضعیف اور بیمار ہوں اور اس کے علاوہ ان کی کوئی تیمار داری کرنے والا بھی نہ ہو ، یہی ان کے سارے کام کرتا ہو ،تو کیا ایسے شخص کو نماز باجماعت ادا کرنی چاہئے؟ یا گھر میں پڑھ لینی چاہئے؟ خصوصاً جب والدین اپنے بیٹے کو جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکتے ہوں تو کیا ان کی بات مان کر جماعت سے نماز چھوڑنے کی شرعاً گنجائش ہے یا نہیں؟ کیونکہ قرآنِ کریم میں ان کی خدمت کے بارے میں تاکید آئی ہے، جبکہ میں اپنے والدین سے بہت محبت کرتا ہوں اور ان کی بہت عزت کرتا ہوں حالانکہ وہ بہت مذہبی نہیں ہیں جتنا میں چاہتا ہوں، میں اﷲ سے، اپنے والدین سے زیادہ محبت کرتا ہوں، میں اپنی فیملی کے مقابلے میں رسول اﷲ اور ان کے طریقوں سے زیادہ محبت کرتا ہوں مجھے اس مسئلہ پر فتویٰ دیں یا تفصیل بتادیں، یا اس مسئلہ پر کوئی مشورہ دے دیں۔ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

احادیثِ مبارکہ میں جماعت سے نماز پڑھنے کی بہت زیادہ تاکید آئی ہے جس کی بناء پر بعض ائمہ کا قول ہے کہ ’’بلا عذر جماعت کے بغیر نماز ہی نہیں ہوتی‘‘، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کے والدین اتنے زیادہ مریض نہ ہوں اور مسجد بھی اتنی دور نہ ہو کہ سائل کے مسجد جانے سے ان کو تکلیف ہوتی ہو یا اور کوئی ضررِ شدید درپیش ہو سکتی ہو تو اس صورت میں سائل پر اپنے والدین کی بات ماننا واجب اور ضروری نہیں، لہٰذا سائل کے والدین کو بھی چاہئے کہ جب انہیں سائل کی عدمِ موجودگی میں کسی قسم کی پریشانی یا تکلیف نہیں ہوتی تو جماعت میں شرکت کے فضائل کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے اسے اجازت دے دینی چاہئے اور اس میں اُنہیں بھی پورا اجر ملے گا۔ واﷲ اعلم!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59104کی تصدیق کریں
1     1256
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات