امامت و جماعت

مسجدِ محلہ میں جماعتِ ثانیہ کا حکم

فتوی نمبر :
59118
| تاریخ :
1995-02-02
عبادات / نماز / امامت و جماعت

مسجدِ محلہ میں جماعتِ ثانیہ کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ محلے کی مسجد جس میں امام بھی اور مؤذن بھی موجود ہیں اور پنجگانہ جماعت بھی ہوتی ہے اور جمعہ کی نماز بھی ہوتی ہے آیا ایسی مسجد میں محلے کے لوگوں کیلئے تکرارِ جماعت جائز ہے ؟ ایک مولانا صاحب جن کا تعلق افغانستان سے ہے جب ان کو منع کیا گیا تو وہ ضد میں آکر کہنے لگے ساری کتب تکرارِ جماعت سے بھری ہوئی ہے اس لئے آپ سے گزارش ہے کہ مسئلہ کو صاف واضح ، عام فہم صورت میں تحریر کرکے مستفید فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مسجدِ محلہ میں جب امام و مؤذن مقرر ہوں تو جماعتِ ثانیہ مطلقاً مکروہِ تحریمی ہے البتہ بعض کتبِ فتاویٰ میں بدون اذان ثانی کے جماعت ثانی کومباح لکھا ہے مگر دلائل پر نظر کرنے سے یہ قید ضعیف معلوم ہوتی ہے اور گر ا س قید کو تسلیم کر بھی لیا جائے تو اس میں اباحت سے مراد کراہت تحریمیہ کی نفی ہوگی کراہت تنزیہیہ کی نفی مراد نہیں جیسا کہ بعض مشائخ نے فرمایا ہے اور جب غور کیا جائے تو یہاں کراہت واباحت میں تعارض ہے اور جب کراہت واباحت میں تعارض ہوجائے تو ترجیح کراہت کو ہی ہوتی ہے لہٰذا مولوی صاحب موصوف کا یہ کہنا کہ ساری کتب تکرارِ جماعت سے بھری ہوئی ہیں الخ۔ اگر اس سے مراد جواز اور اباحتِ جماعتِ ثانیہ ہو تو یہ قطعاً درست نہیں لہٰذا مسجد محلہ میں جماعتِ ثانیہ سے احتراز کیا جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الشامیۃ: یکرہ تکرار الجماعۃ فی مسجد محلۃ بأذان وإقامۃ إلا إذا صلی بہما فیہ اولا غیر أہلہ أو أہلہ لکن بمخافتۃ الاذان و لو کرر أہلہ بدونہما أو کان مسجد طریق جاز إجماعا کما فی مسجد لیس لہ إمام ولا مؤذن ویصلی الناس فوجًا فوجًا فان الأفضل أن یصلی کل فریق بأذان وإقامۃ علی حدۃ۔ کما فی إمالی قاضی خان الخ( ج۱، ص۴۰۸)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59118کی تصدیق کریں
2     1583
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات