امامت و جماعت

امام تکبیرِ تحریمہ کب کہے ؟

فتوی نمبر :
59119
| تاریخ :
1995-02-02
عبادات / نماز / امامت و جماعت

امام تکبیرِ تحریمہ کب کہے ؟

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جب مؤذن صاحب اقامت پکارتے ہیں تو ابھی پوری اقامت ختم نہیں ہو پاتی ہے اور ٹھیک "قدقامت الصلوٰۃ "پر امام صاحب تکبیر "اللہ اکبر "پکاردیتے ہیں، چونکہ وہ ماضی میں بارہ سال تک تقریباً پوری اقامت ختم ہونے کے بعد تکبیر "اللہ اکبر "پکارتے تھے، اس دو نظریے کے تحت لوگوں نے امام صاحب سے پوچھا کہ آخر اس دو طرح کے طریقے کو آپ نے دو وقتوں میں کیوں رائج کیا؟ تو انہوں نے کہا کہ حدیث میں ہے۔
لہٰذا آپ سے درخواست ہے کہ آپ اس مسئلے میں یہ واضح فرمادیں کہ کون سا طریقہ غلط ہے اور کون سا طریقہ صحیح ہے؟ اگر دونوں ہی صحیح ہیں تو دونوں میں سے کون سا افضل ہے؟ عین نوازش ہوگی

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ دونوں طریقے جائز اور درست ہیں البتہ امام کیلئے بہتر اور افضل یہ ہے کہ اقامت پوری ختم ہونے کے بعد تکبیر کہے تاکہ امام اور مقتدی سب تکبیرِ اقامت کا جواب دینے کے ساتھ تکبیرِ اولیٰ کی فضیلت کو بھی حاصل کرسکیں۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر: وشرع الإمام فی الصلاۃ مذ قیل قد قامت الصلوٰۃ و لو أخر حتی أتمہا لا باس بہ اجماعًا وہو قول الثانی والثلاثۃ وہو اعدل معز یا للخلاصۃ أنہ الا صح۔ اھـ (ج۱، ص۴۷۹) ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59119کی تصدیق کریں
0     1591
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات