کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ (۱) میرے چچا کی جہاں رہائش ہے وہاں کہیں آس پاس کوئی مسجد نہیں ہے فلیٹوں کے مکین وغیرہ نے فلیٹوں کے احاطے میں ایک چھوٹی سی مسجد بنائی ہوئی ہے جس میں پانچوں نمازیں باجماعت ادا کی جاتی ہیں، وہاں کے مکینوں نے ماہانہ تنخواہ وغیرہ پر پیشِ امام اور موذن وغیرہ رکھا ہوا ہے ہمارے چچا کو اس بات سے سخت اعتراض ہے کہ تنخواہ دار پیشِ امام کے پیچھے نمازیں پڑھنا ٹھیک نہیں اس اعتراض کے پیشِ نظریہ گزشتہ برسوں سے نمازیں گھر ہی میں پڑھتے ہیں کیونکہ یہ ضعیف بھی ہیں اس لئے کہیں دور نماز پڑھنے نہیں جاسکتے پابندی کے ساتھ، برائے مہربانی اس مسئلہ کا قرآن وحدیث کی روشنی میں تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔
(۲) بریلوی عقائد کے افراد کی مساجد وغیرہ میں نماز پڑھنا یا بریلوی پیشِ امام کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے کہ نہیں؟ تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں۔
(۳) کیا نمازیوں کو رفع یدین کرنا چاہئے یعنی یہ ضروری ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ شکریہ!
(۱) امامت کی تنخواہ لینا باتفاق ائمہ جائز اور درست ہے، لہٰذا شخصِ مذکور کو چاہیے کہ امامت کی تنخواہ کے ناجائز ہونے کے نظریہ سے مکمل طور پر احتراز کرتے ہوئے جماعت میں شرکت کے ثواب سے اپنے آپ کو محروم نہ کرے۔
(۲) آج کل بریلوی مسلک سے تعلق رکھنے والے اکثر ائمہ مساجد ،عقائد شرکیہ (مثلاً حضور ﷺ کو عالم الغیب، مختارِ کل، اور حاضر ناظر سمجھنے جیسے عقائد) رکھتے ہیں لہٰذا ان کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے احتراز کرنا ضروری ہے اور اگر کسی بریلوی امام کے بارے میں معلوم ہوجائے کہ وہ مذکورہ قسم کے عقائد نہیں رکھتا البتہ بدعات و رسومات میں مبتلا ہے تو ایسے شخص کو اپنے اختیار سے امام نہیں بنانا چاہئے، اس لئے ایسا شخص فاسق ہے اور فاسق کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے تاہم جب تک کسی نیک و صالح اور متبع شریعت امام کا بندوبست نہ ہو اس وقت تک اکیلے نماز پڑھنے سے بہتر ہے کہ اس کی اقتداء میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لی جائے۔
(۳) رفع الیدین کرنا یا نہ کرنے دونوں سے متعلق احادیث موجود ہیں لیکن عدم رفع راجح ہے اس لئے حنفی مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو سوائے تکبیر تحریمہ کے دوسرے مواقع پر رفع یدین نہیں کرنا چاہئے۔ وﷲ اعلم!