کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جب موذن صاحب اقامت پکارتے ہیں تو ابھی پوری اقامت ختم نہیں ہوپاتی ہے اور ٹھیک قدقامت الصلوٰۃ پر امام صاحب تکبیر ،اللہ اکبر پکاردیتے ہیں، چونکہ وہ ماضی میں بارہ سال تک تقریباً پوری اقامت ختم ہونے کے بعد تکبیر اللہ اکبر پکارتے تھے، اس دو نظریے کے تحت لوگوں نے امام صاحب سے پوچھا کہ آخر اس دو طرح کے طریقے کو آپ نے دو وقتوں میں کیوں رائج کیا؟ تو انہوں نے کہا کہ حدیث میں ہے۔
لہٰذا آپ سے درخواست ہے کہ آپ اس مسئلے میں یہ واضح فرمادیں کہ کون سا طریقہ غلط ہے اور کون سا طریقہ صحیح ہے؟ اگر دونوں ہی صحیح ہیں تو دونوں میں سے کون سا افضل ہے؟ عین نوازش ہوگی!
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ دونوں طریقے جائز اور درست ہیں البتہ امام کیلئے بہتر اور افضل یہ ہے کہ اقامت پوری ختم ہونے کے بعد تکبیر کہے تاکہ امام اور مقتدی سب اقامت کا جواب دینے کے ساتھ تکبیرِ اولیٰ کی فضیلت کو بھی حاصل کرسکیں۔
فی الدر: وشرع الإمام فی الصلاۃ مذ قیل قد قامت الصلوٰۃ ولو أخر حتی أتمہا لا باس بہ اجماعًا وہو قول الثانی والثلاثۃ وہو اعدل معز یا للخلاصۃ أنہ الا صح۔ اھـ (ج:۱، ص:۴۷۹) وﷲ اعلم!