امامت و جماعت

امام کی عدم میں موجودگی میں مؤذن کی اقتداء میں نماز

فتوی نمبر :
59185
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / امامت و جماعت

امام کی عدم میں موجودگی میں مؤذن کی اقتداء میں نماز

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ (۱) اگر مسجد کا مؤذن قوم کا نائی ہو اور وہ قاری بھی ہو اور حافظ القرآن بھی ہو اور مدرسے کا استاد بھی ہو تو اس کے پیچھے استاد کے غیر موجودگی کی وجہ سے نماز جائز ہے یا نہیں؟
(۲) اگر مسجد کا مؤذن جاہل اور انپڑھ ہو تو استاد کی غیر موجودگی کی وجہ سے اگر قاری اور حافظ القرآن موجود ہوں تو اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟
(۳) درود شریف کے لئے وقت یا دن مقرر کرنا اور اسی دن سب کا جمع ہوکر درود شریف پڑھنا کیسا ہے؟
(۴) چند صحابہ کرامؓ کے پیشہ کا نام بتائیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱) صورتِ مسئولہ میں اصل امام کی عدم موجودگی میں ایسے شخص کی اقتداء میں نماز ادا کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
(۲) صورتِ مسئولہ میں مذکور مؤذن اگر اس طرح قراء ت کرنے پر قدرت رکھتا ہو، جس سے نماز جائز ہوجاتی ہو، تو اس کی اقتداء میں ہر ایک کی نماز جائز ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ ایسے شخص کو امام بنایا جائے جو مسائل نماز سے واقف ہونے کے ساتھ قرآن کریم بھی اچھی طرح پڑھنا جانتا ہو، اور اگر وہ اس طرح قرأت کرنے پر قادر نہ ہو تو اس صورت میں اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا درست نہیں بلکہ سب کی نماز فاسد ہوجائے گی۔
(۳) درود شریف پڑھنا بلاشبہ جائز اور درست اور بہت زیادہ اجر و ثواب کا ذریعہ ہے اور ذخیرۂ احادیث میں اس کے بڑے فضائل وارد ہوئے ہیں، البتہ اس عمل کیلئے کوئی خاص وقت یا دن مقرر کرنا اور پھر اس وقت میں پڑھنے کو ہی ضروری اور کارِ ثواب سمجھنا اور اس وقت نہ پڑھنے والوں کو گناہ گار سمجھنا یا بنظرِ حقارت دیکھنا قطعاً جائز نہیں بلکہ یہ عمل بدعت ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
(۴) صحابہ کرام نے اپنے وقت کے مروّج اور جائز پیشوں کو اختیار فرمایا ہے، مثلاً تجارت اور ذراعت وغیرہ اور اس امر کی مزید تفصیل کیلئے سیرتِ صحابہؓ کی کتابوں کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ وﷲ اعلم!

مأخَذُ الفَتوی

کما فی فتح القدیر (چلپی) (قولہ وأولی الناس بالامامۃ أعلمہم بالسنۃ) أی بالفقر والشریعۃ اذا کان یحسن من القرأۃ ما تجوز بہ الصلوٰۃ۔ (فان تساووا فاقرأہم)۔ (ج۱، ص۳۰۱)
کما فی الھندیہ: وامامۃ الأمی قومًا امیین جائزۃ کذا فی السراجیۃ، اذا أم أمی أمیا وقارئًا فصلاۃ الجمیع فاسدۃ۔ (ج۱، ص۸۵)
کما فی الشامی در مختار: وکل مباح یؤدی الیہ (الی الوجوب) فمکروہ، وفی الرد المختار تحت (قولہ فمکروہ) الظاہر أنہا تحریمیۃ لانہ یدخل فی الدین ما لیس منہ۔ (ج۱، ص۵۷۷)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59185کی تصدیق کریں
0     810
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات