امامت و جماعت

مسجد میں الگ سے اپنی جماعت کرانے کا حکم

فتوی نمبر :
59187
| تاریخ :
2000-02-03
عبادات / نماز / امامت و جماعت

مسجد میں الگ سے اپنی جماعت کرانے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ ہمارے گاؤں میں ایک امام صاحب ہیں ان کی عادت یہ ہے کہ وہ دیر سے مسجد تشریف لاتے ہیں جس وقت نماز ہوچکی ہوتی ہے اور وہ امام موصوف چند آدمیوں کو لے کر دوبارہ جماعت کراتے ہیں یہ ان کا معمول ہے جب بھی دیر سے آتے ہیں اسی طرح کرتے ہیں اب پوچھنا یہ ہے کہ ان امام صاحب کا یہ عمل شرعاً درست ہے یا کہ نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں امام موصوف کا مذکور طریقہ کار کے مطابق دوسری جماعت کی عادت بنالینا مکروہ ہے، اس لئے کہ جس مسجد میں امام و مؤذن متعین ہوں اور نمازیں بھی اپنے مقررہ وقت پر ادا کی جاتی ہوں، تو ایسی مسجد میں جماعت ثانیہ مطلقاً مکروہ تحریمی ہوتی ہے لہٰذا مذکور امام کو چاہئے کہ اپنے مذکورعمل سے اجتناب کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدرالمختار:
ویکرہ تکرار الجماعۃ بأذان وإقامۃ فی مسجد محلۃ لافی مسجد طریق أو مسجد لا إمام لہ ولا مؤذن۔ اھـ
وقال فی الشامیۃ: (قولہ ویکرہ) أی تحریمًا لقول الکافی لا یجوز، والمجمع لا یباح، وشرح الجامع الصغیر إنہ بدعۃ (إلی قولہ) یکرہ تکرار الجماعۃ فی مسجد محلۃ بأذان وإقامۃ، الا اذا صلی بہما فیہ أولا غیر أہلہ أو أہلہ لکن بمخافتۃ الأذان، ولو کررأہلہ بدونہما أو کان مسجد طریق جاز اجماعًا، کما فی مسجد لیس لہ إمام ولا مؤذن ویصلی الناس فیہ فوجا فوجا، فإن الأفضل أن یصلی کل فریق بأذان وإقامۃ علی حدۃ کما فی أمالی قاضیخان۔ اھـ (ج:۱، ص:۵۵۳) وﷲ اعلم!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59187کی تصدیق کریں
0     710
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات