کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مولوی صاحب مستقل امامت کراتا ہے اس مولوی صاحب کے گھر میں شرعی پردہ نہیں ہے، اور اس مولوی صاحب کی گھر والی عام عورتوں جیسی گھومتی پھرتی ہے، اور مولوی صاحب بھی غیر محرم عورتوں سے ہاتھ ملاتے ہیں اور مولوی صاحب بھی ٹی وی دیکھتے ہیں، آپ صاحبان سے گزارش ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں یہ بتائیں کہ ان کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں جن امورو صفات کا ذکر کیا گیا ہے اگر واقعۃً امام موصوف میں پائی جاتی ہیں، تو ان صفات کا حامل امام فاسق ہے، اور فاسق کی امامت مکروہِ تحریمی ہے، لہٰذا ایسے شخص کو اپنے اختیار سے امام بنانا جائز نہیں، تاہم جب تک کوئی صالح متقی پرہیزگار اور متبع شریعت امام میسر نہ ہو اس وقت تک ایسے شخص کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے جماعت کا ثواب مل جائے گا۔
وفی الغنیۃ: لوقدموا فاسقا یاثمون بناء علی ان کراہۃ تقدیمہ کراہۃ تحریم۔اھـ
وفیہا ایضًا: لو صلی خلف فاسق او مبتدع احرز ثواب الجماعۃ۔ اھـ (ص۵۱۳) وﷲ اعلم!