امامت و جماعت

قریب میں مسلکِ دیوبند کی مسجد نہ ہو تو کیا کرے

فتوی نمبر :
59206
| تاریخ :
2000-08-05
عبادات / نماز / امامت و جماعت

قریب میں مسلکِ دیوبند کی مسجد نہ ہو تو کیا کرے

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ اگر کسی شخص کے مکان کے ارد گرد بریلویوں کی مساجد ہوں اور وہ آدمی خود دیوبندی ہو اور دیوبندیوں کی مساجد دور ہوں اور وہ شخص پانچ وقت کی اذان سنتا رہتا ہو ،اس کو کوئی عذر بھی لاحق نہ ہو، تو آیا اس شخص کیلئے اکیلا نماز پڑھنا بہتر ہے یا بریلویوں کے پیچھے نماز پڑھنا بہتر ہے؟ مسئلہ مذکورہ کی قرآن اور احادیث کے روشنی میں وضاحت کیجئے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جو شخص اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں شرک کا عقیدہ رکھتا ہو اس کی اقتداء میں نماز جیسی اہم عبادت کا ادا کرنا قطعاً درست نہیں البتہ اگر وہ شرکیہ عقیدہ نہ رکھتا ہو بلکہ محض بدعات و رسومات میں مبتلا ہو تو ایسے شخص کی اقتداء میں نماز ادا کرنا اگرچہ مکروہِ تحریمی ہے تاہم اکیلے نماز پڑھنے سے بامرِ مجبوری اس کی اقتداء میں نماز ادا کرنا بہتر اور افضل ہے، مگر یاد رہے کہ ایسے شخص کو اپنے اختیار سے امام ہرگز نہیں بنانا چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

وذکر فی المنتقی روایۃً عن ابی حنیفۃ انہ کان لا یری الصلاۃ خلف المبتدع والصحیح انہ ان کان ہوی یکفرہ لا تجوز وان کان لا یکفرہ تجوز مع الکراہۃ۔ اھـ (بدائع ج۱، ص۱۵۷)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59206کی تصدیق کریں
0     884
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات