امامت و جماعت

فیکٹری کے باہر پارکنگ ایریا جو کہ سرکاری زمین ہوتی ہے اس میں مسجد بنانا

فتوی نمبر :
59225
| تاریخ :
2000-02-02
عبادات / نماز / امامت و جماعت

فیکٹری کے باہر پارکنگ ایریا جو کہ سرکاری زمین ہوتی ہے اس میں مسجد بنانا

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ سائٹ کے علاقے میں ایک چھوٹی سی مسجد ہے اور وہ مسجد ایک فیکٹری کے سامنے واقع ہے، چونکہ ہر فیکٹری کے سامنے کچھ جگہ ہوتی ہے جس میں فیکٹری والے کار پارکنگ یا گارڈن بنادیتے ہیں، تو مذکورہ مسجد بھی اسی جگہ پر واقع ہے، مسجد کی تین دیواریں ہیں جبکہ چوتھی دیوار فیکٹری کی ہے اور اس مسجد میں زید دو سال سے امامت کرارہا ہے جبکہ مسجد اس سے پہلے کی قائم ہے، مذکورہ تفصیل کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے درجِ ذیل سوالات کا جواب مطلوب ہے۔
(۱) کیا اس مسجد میں نماز جائز ہوگی جبکہ فیکٹری کے مالک کی اجازت ہو ،حالانکہ یہ جگہ سرکاری ہوتی ہے؟
(۲) اگر مالک کی اجازت نہ ہو تو کیا اس میں نماز جائز ہے؟
(۳) اب تک اس میں نماز باجماعت ہوتی رہی، تو ان نمازوں کا کیا ہوگا؟
(۴) زیدکی نمازوں کا کیا حکم ہے کیونکہ زید کو چند چوکیداروں نے امامت کیلئے کہا تھا اور مسجد پہلے سے قائم تھی، واضح رہے کہ اب تک مسجد کی تعمیر و مرمت ہوتی رہی ،لیکن متعلقہ فیکٹری کے مالک نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔
(۵) نیز یہ بات بھی مسلم ہے کہ مذکورہ مسجدسرکاری زمین پر بنائی گئی یہ جگہ کسی فرد یا شخص کی ملکیت نہیں ہے، آیا اب شرعی طور پر یہ مسجد ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں جس جگہ مسجدکے بن جانے کا ذکر ہے اگرچہ یہ جگہ فیکٹری کے مصالح اور مفاد کیلئے چھوڑی گئی ہے تاہم حکومت کی ملکیت ضرور ہے، اس لئے ایسی جگہ مسجد بنانے کیلئے ضروری ہے کہ حکومت سے اس کی اجازت طلب کی جائے، پس اگر ان سے اجازت مانگی گئی اور حکومت یا اس کے مجاز افسران نے منع کردیا ، ان کے منع کرنے کے باوجود اگر مسجد بنائی جائے تو یہ مسجد شرعی مسجد نہیں کہلائی گی اور اس میں نماز پڑھنے سے نماز تو ادا ہوجائے گی، مگر مسجد کی نماز کا ثواب نہیں ملے گا۔
اور اگر حکومت یا اس کے مجاز افسران کو اس جگہ مسجد بن جانے کا علم ہوجائے اور انہوں نے اس کو ہٹانے اور ختم کرنے کا حکم بھی نہ دیا ہو اور وہاں مسجد کی ضرورت بھی ہو تو اس صورت میں ان کا منع نہ کرنا ضمنی اور دلالۃً اجازت شمار ہوگا اور یہ مسجد بھی شرعی مسجد کہلائے گی، اس میں نماز پڑھنے سے مسجد کی نماز کا ثواب ملے گا اور اس پر مسجد کے تمام احکام بھی جاری ہوں گے اور مذکورہ دونوں صورتوں میں آپ کی نماز ادا ہوگئی ہے۔ واﷲ اعلم!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59225کی تصدیق کریں
0     727
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات