کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ کے بارے میں کہ:
ایک شخص جو امام ہے، اگر وہ ٹی وی اور سینما دیکھے ،تو اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ اگر اس کے پیچھے نماز جائز نہیں، تو کیا وہ نمازیں جو اس نے پڑھائیں ہیں اسکا کیا کیا جائے؟
اگر واقعۃً امام موصوف میں مذکورہ خرابیاں پائی جاتی ہیں، تو ان خرابیوں کی بناء پر وہ فاسق ہے،اور فاسق کی اقتداء میں نماز جیسی اہم عبادت بجالانا مکروہِ تحریمی ہے، اس لئے ایسے شخص کو اپنے اختیار سے امام نہیں بنانا چاہئے۔
تاہم اکیلے نماز پڑھنے سے بہتر ہے کہ اسی کی اقتداء میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لی جائے، لہٰذا ان کی اقتداء میں جو نمازیں پڑھی گئی ہیں، اگرچہ ناقص ہوئی ہیں، بہرحال ادا ہوچکی ہیں، لوٹانے کی ضرورت نہیں، اور اس صورت میں اہلِ محلہ اور کمیٹی پر لازم ہے کہ، وہ کسی نیک و صالح اور متبع شریعت شخص کو اپنا امام بنانے کی کوشش کریں۔
ففی الہندیة: وصلی خلف مبتدع أو فاسق فہو محرز ثواب الجماعة لکن لا ینال مثل ما ینال خلف تقی، کذا فی الخلاصة اھـ (ج۱، ص۸۴) واﷲ اعلم!