کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ داڑھی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اور داڑھی رکھنے کی شرعی حد کتنی ہے؟ اور اس کی بھی وضاحت فرمائیں کہ جو شخص داڑھی کتراتا یا منڈھاتا اور ایک مٹھی سے کم رکھتا ہو اس کی اقتداء میں فرض اور تراویح کی نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
برائے مہربانی قرآن وحدیث کی روشی میں شرعی حکم سے مطلع فرمائیں۔
شرعاً ایک مٹھی کی حد تک داڑھی رکھنا واجب اور اس سے کم کرنا ناجائز اور حرام ہے، اور جو شخص داڑھی ایک مٹھی سے کم کرتا، یا کترواتا ہو وہ فاسق ہے اور فاسق کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے۔
لہٰذا ایسے شخص کو اپنے اختیار سے فرائض یا تروایح میں امام بنانا اور ا کی اقتداء میں نماز ادا کرنا جائز نہیں۔
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اﷲ تعالٰی:
فی المسلم عن ابی ہریرۃ-رضی اللہ عنہ-عن النبی-ﷺ- جزوا الشوارب واعفوا للحی خالفوا المجوس فھذہ الجملۃ واقعۃ موقع التعلیل واما الاخذ منہا وہی دون ذٰلک (یعنی القبضۃ) کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ احد۔ اھـ
(وفیہ ایضًا قبیل ذٰلک) لا بأس بان یقبض علی لحیتہ فاذا زاد علی قبضتہ شیٔ جزہ کما فی المنیہ وہو سنۃ کما فی المبتغی۔(رد المحتار: ج:۲، ص:۱۲۳
قال فی الفتح: (ویکرہ تقدیم العبد والاعرابی والفاسق لأنہ لایہتم لامردینہ) وفی الدرایۃ: قال اصحابنا:لا ینبغی ان یقتدی بالفاسق۔ اھـ (فتح القدیر: ج:۱، ص:۳۰۴) وﷲ اعلم