کیا فرما تے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک عورت کا نکاح ایک آدمی سے ہوچکا تھا اور رخصتی نہیں ہو ئی تھی کہ اس دوران خاوند نے ایس ایم ایس پر لڑکی کو طلاق دیدی , تو لڑکی کے گھر والوں نے اس لڑکی کا نکاح دوسرے مرد سے کروادیا , تو کیا "ا ایس ایم ایس' پر طلاق ہوجاتی ہے یا نہیں ?
اور اس دوسرے مرد سے اس کا نکاح جائز ہوا یانہیں? جواب دے کر مشکور فرمائیں -
واضح ہو کہ میسج پر بھیجی ہوئی طلاق بھی واقع ہوجاتی ہے ، لہذا سوال میں مذکور لڑکا اور لڑکی کے درمیان نکاح کے بعد ہمبستری یا خلوتِ صحیحہ نہ ہوئی ہو تو مذکور لڑکی پر عدت بھی لازم نہیں تھی ، لہذا لڑکی والوں کا اس کا آگے دوسرے مرد سے نکاح کرنا درست ہے،اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں -