السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ
میرا نام حبیبہ ہےشوہر کا نام محمد سلیم ہےمیرے شوہر سلیم شراب کے عادی ہیں ،روزانہ رات سے صبح تک ڈیڑھ لٹر شراب پیتے ہیں، کئی کئی روز گھر نہیں آتے اور جتنے دن گھر نہیں آتے اتنے دنوں کا خرچہ بھی نہیں دیتے تب تک میں دودھ تک ادھار پر لاتی ہوں قریبی سوپر مارکیٹ سے ۔۔ہمارے 2 بیٹے ہیں انکی عمر 4 اور 5 سال ہے ۔اب سلیم مجھ سے بچے چھین لینا چاہتے ہیں ، میرا تعلق علماء کے گھرانے سے ہے اور سلیم کا تعلق ایسے خاندان سے ہے جہاں شراب اور زنا عام ہے۔ہر دوسرا بندہ انکے خاندان میں نشہ کا علاج کروا رہا ہے حتی کہ سلیم کے اپنے بھائی بھی ایسے ہی نشئی ہیں ، سلیم کے خاندان میں تعلیم حاصل کرنے کا تصور بھی نہیں ہے ،انکے ہاں بچوں کو بالغ ہونے پر کاروبار سنبھالنے کا کہا جاتا ہے، جب کہ میرے خاندان میں دینی اور دنیاوی تعلیم لازمی دی جاتی ہے بیٹے بیٹیوں کو ۔
سلیم ہر چھوٹے بڑے جھگڑے پر مجھے دھکے دیکر گھر سے نکال دیتے ہیں ،ہمیشہ طلاق کی دھمکیاں دیتے ہیں، جھوٹ بولنے اور جھوٹی قسمیں اٹھانے کے عادی ہیں، کئی دفعہ سلیم نے ہاتھ میں قرآن پاک لے کر ،اور کئی دفعہ کعبہ بیت اللہ اور روضہ مبارک کے سامنے قسم اٹھائی کہ اب شراب اور عورتوں سے تعلقات پر توبہ لیکن آج تک یہ دونوں کام نہیں چھوڑے ۔2 سال پہلے سلیم نے نشہ کا علاج بھی کروایا لیکن کوئی اثر نہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ سلیم طلاق کے معاملے میں بھی بالکل قابل اعتبار نہیں ہیں ۔سلیم نے اپنی سابقہ بیوی کو بھی صریح الفاظ میں 3 طلاق دینے کے بعد 5،6 سال اپنے گھر میں رہنے دیا ، پھر جب مجھ سے نکاح ہو گیا تو اسکو تحریری طلاق نامہ بھیج دیا۔اس 6 سال کے عرصہ میں سلیم سے اس عورت کی ایک بیٹی پیدا ہوئی ۔ میرے سامنے بھی سلیم تقریبا روزانہ نشے میں اس عورت کو کال کر کے کال پر ایک ساتھ 10،10 طلاقیں صریح الفاظ میں دیا کرتے تھے۔
سلیم توابھی تک کسی طلاق کو مانتے ہی نہیں ۔انکے نزدیک کسی طرح بھی طلاق واقع نہیں ہوتی۔میں نے جامعہ دارالعلوم کراچی سے درس نظامی کا کورس کیا ہوا ہے۔مجھے تو پتہ ہے اس طرح کے الفاظ سے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔پھر جب جب ہم میاں بیوی نے مفتیان کرام سے پوچھا تو انہوں نے بھی کہا طلاق واقع ہو گئی ہے ۔حتی کہ فروری 2022 والے واقعہ کا سلیم نے خود یہاں جدہ میں کسی مفتی صاحب سے پوچھا تو انہوں نے سلیم کو بتایا کہ 1 طلاق رجعی ہو گئی ہے ۔تو تب سلیم نے فروری والی طلاق کے 2 ماہ بعد مفتی صاحب کے کہنے پر رجوع کر لیا تھا ۔ 2016 میں بھی ہم نے مفتی سید عدنان کاکا خیل سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا تھا کہ 2 طلاق رجعی ہو گئی ہیں ۔پھر سلیم نے عدت کے دوران ہی رجوع کر لیا تھا۔
مسئلہ یہ ہے کہ اب سلیم کہتے ہیں کہ ہمارے درمیان کبھی کوئی طلاق ہی نہیں ہوئی حالانکہ 2016 کے میسجز بھی ہیں ہمارے پاس ہیں جن میں طلاق کا بتایا گیا ہے ہمیں ۔
برائے مہربانی آپ رہنمائی فرمادیجئے تا کہ روز روز کے لڑائی جھگڑے اور شوہر کے حرام کام دیکھ کر گناہگار ہونےوالی زندگی سے نجات حاصل ہو ۔یکم مئی2016کوسلیم شدید غصہ کی حالت میں مجھےدھکے دیکر گھر سے باہر نکال رہے تھے اور یہ والے جملے کہہ رہے تھے۔جاو میں تمہیں آزاد کرتا ہوں !جاو تم آزاد ہو !ہم دونوں کی آپس میں کبھی نہیں بن سکتی۔
4 فروری 2022سلیم شدید غصہ میں تھے ہمارے درمیان جھگڑا بھی ہو گیا،جمعہ کی نماز کے بعد کہنےگے کہ میں آج تمہیں لازمی طلاق دے دوں گا ، پھر سلیم سو گئے ۔۔عصر کے بعد نیند سے بیدار ہوئے تو سلیم نے دوبارہ جھگڑا شروع کر دیا ،اصل میں بات یہ ہوئی کہ میں نے کہہ دیا بچون کو باہر لے جاتے ہین کیونکہ 15 ،20دن سے گھر سے باہر نہیں نکلے ، آج جمعہ کا دن ہے باہر گھومنے چلتے ہیں ، لیکن سلیم اس دن غصے میں تھے تو کہنے لگے آج کے بعد تمہیں کہیں بھی ساتھ لے کر نہیں جاوں گا ۔میں نے جواب میں سلیم سے اسی طلاق کا کہا جس طلاق کا سلیم نے سونے سے پہلے ذکر کیا تھا ۔میں نے کہا جس دن آپ نے طلاق دے دی اس دن اکیلے باہر چلے جانا تو سلیم نے کہا میری طرف سے ہوگئی ہے ساتھ ہی میرا ہاتھ کھینچ کر دھکے دیکر مجھے گھر سے باہر نکالنے لگ گئے اور کہنے لگے اب نکلو میرے گھر سے۔
سوال میں ذکرکردہ تفصیل کے مطابق سائلہ کے بقول اس کا شوہر اسے مجموعی طورپر تین سے زائدمرتبہ طلاق دے چکاہے، لیکن وہ اپنے دیئے کو طلاق کو نہیں مانتا، جبکہ سائلہ نے متعدد جگہوں سے اس کا حکم بھی معلوم کیا ہے ، اس لیے اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ سائلہ اور اس کا شوہر دونوں کسی دارالافتاء سے براہ راست رابطہ کرکے اپنا حلفیہ بیان جمع کرادیں، اور اگر ہوسکے تو خود کسی دارالافتاء حاضر ہوکر حکم شرعی معلوم کرکے اسی کے مطابق عمل کرے۔ اس طرح اختلافی مسائل میں صرف یکطرفہ بیان پر ہمارے ہاں سے فتوی جاری نہیں ہوسکتا۔