کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں میں ایک مسجد ہے جو کہ جامع مسجد نہیں ہے ، اس کا پیش امام صرف عشاء کی نماز میں آتا ہے اور باقی چار نمازوں میں نہیں آتا ہے، عشاء کی نماز میں قرآن شریف کا ترجمہ کرتا ہے، باقی چاروں نمازیں طالبعلموں سے پڑھواتا ہے، ان طالبعلموں میں سے ایک طالب علم نابالغ اور دو طالب علم بالغ ہیں، جو دو بالغ ہیں ان میں سے ایک کی داڑھی نہیں ہے اور ایک کی ہے، جس کی داڑھی نہیں ہے اس کا قد چھوٹا اور عمر تقریباً بیس سال ہے، اور جس کی داڑھی ہے اس کا قد بھی بڑا ہے اور نماز بھی صحیح ہے۔
ایک مقتدی نے بڑے والے طالب عالم سے کہا کہ تم خود نماز پڑھایا کرو اور ان چھوٹے طالبعلموں سے مت پڑھواؤ ، تو اس نے جواب دیا کہ ہم اس کو ٹرین کر رہے ہیں، لہٰذا اب ہم یہ فتویٰ چاہتے ہیں کہ اس پیش امام صاحب نے باقی چاروں نمازوں کیلئے ان کو تقریباً امام رکھا ہے لہٰذا ان کے پیچھے نماز پڑھی جائے یا نہ پڑھی جائے؟
میں نے بڑے طالبعلم سے کہا کہ قومہ اور جلسہ کے دوران تھوڑی دیر کیلئے رُکنا واجب ہے تاکہ الفاظ کی درست طریقے سے ادائیگی ہوجائے، مگر اس نے جواب دیا کہ یہ کوئی واجب نہیں ہے، لہٰذا میں نے اس کے بعد سے ان کے پیچھے نماز پڑھنی چھوڑ دی ہے، اس کی اس مندرجہ بالا گفتگو سے واضح ہوتا ہے کہ اس کو نماز کے اندر فرض اور واجب کا کوئی علم نہیں ہے، لہٰذا ان کے پیچھے نماز پڑھی جائے یا نہیں؟ یہ تینوں طالبعلم مستقل مزاج نہیں ہیں اس لئے کہ کبھی یہ کرکٹ کبھی منٹیال اور کبھی دوسرے کھیل کھیلتے ہیں اور پیش امامی کرتے ہیں۔
نابالغ کی اقتداء میں نماز جائز نہیں اس سے احتراز لازم ہے البتہ دیگر طلبہ اگر واقعۃً ضروری مسائل سے واقف نہ ہوں تو اولاً متعلقہ امام پر لازم ہے کہ اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے تمام نمازوں میں حاضر رہنے اور خود امامت کی سعی کرے ورنہ بصورتِ دیگر کسی ایسے طالبعلم کو اپنا نائب مقرر کرے جو مسائلِ نماز سے واقف ہونے کے ساتھ قرآن کریم بھی درست پڑھتا ہو اور اس کی اخلاقی کیفیت بھی درست ہو تا کہ مقتدیوں کی نماز بھی اس کی اقتداء میں بلاکراہت درست ادا ہوسکے۔
فی الہندیۃ: و علٰی قول ائمۃ بلخ یصح الاقتداء بالصبیان فی التراویح و السنن المطلقہ کذا فی فتاویٰ قاضیخان المختار انہ لا یجوز فی الصلوٰۃ کلہا کذا فی الہدایۃ و ہو الاصح ھٰکذا فی المحیط و ہو قول العامۃ و ہو ظاہر الروایۃ (ج۱، ص۸۵)۔
و فی البدائع : تجب علی الرجال العقلاء البالغین القادرین علٰی الصلوٰۃ بالجماعۃ من غیر حرج۔ (ج۱، ص۸۲)۔