امام نے نماز ختم کی مقتدی کی لیکن دورکعت رہ گئیں تو وہ اپنی نماز مکمل کررہا ہے، اور اس کے پیچھے ایک اور نمازی آتا ہے، اور اس کو امام بنا کر خود مقتدی بن جاتا ہے، اس کا مجھے سمجھ میں نہیں آیا کہ مقتدی کیسے امام بن گیا، اور یہ سلسلہ آگے بھی بڑھا کہ پھراس مقتدی کی دور رکعت باقی ہوئیں، اور ایک اور نمازی آتا ہے، اور اس کو امام بنا دیتا ہے، برائے مہربانی بتائیں کہ یہ کیسے جائز ہے؟
واضح ہو کہ امام کے نماز مکمل کرنے کے بعدمسبوق کی اقتداء شرعاً درست نہیں، لہذا صورت مسئولہ میں بقیہ تمام لوگوں کی نماز درست ادانہیں ہوگی، چنانچہ جس شخص نے مسبوق کی اقتداء میں نماز پڑھنے کی نیت کی ہے، اس کے ذمہ نماز کا اعادہ لازم ہے۔
ففى المحيط البرهاني في الفقه النعماني : لأن حكم صلاةالمسبوق، وحكم صلاة المنفرد مختلفان ألا ترى أن الاقتداءبالمسبوق لا يصح وبالمنفرد يصح، اھ (215)
وفی البحر الرائق: و حقیقة المسبوق ھو من لم یدرک اؤل صلاۃ الامام والمراد بالاول الرکعة الاولیٰ وله احکام کثیرۃ فمنھا انہ منفرد فیما یقضی الا فی اربع مسائل احداھماانہ لایجوز اقتداؤہ ولا اقتداء بہِ لانہ بان تحریمة (الی قولہ) لان کلامھم فیما اذا قام الی قضاء ما سبق بہ وھو فی ھذہ الحالة لا یصح الاقتداء بہ اصلاً (400/1)۔