امامت و جماعت

مسبوق مقتدی کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز ہے ؟

فتوی نمبر :
59566
| تاریخ :
2022-10-13
عبادات / نماز / امامت و جماعت

مسبوق مقتدی کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز ہے ؟

امام نے نماز ختم کی مقتدی کی لیکن دورکعت رہ گئیں تو وہ اپنی نماز مکمل کررہا ہے، اور اس کے پیچھے ایک اور نمازی آتا ہے، اور اس کو امام بنا کر خود مقتدی بن جاتا ہے، اس کا مجھے سمجھ میں نہیں آیا کہ مقتدی کیسے امام بن گیا، اور یہ سلسلہ آگے بھی بڑھا کہ پھراس مقتدی کی دور رکعت باقی ہوئیں، اور ایک اور نمازی آتا ہے، اور اس کو امام بنا دیتا ہے، برائے مہربانی بتائیں کہ یہ کیسے جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ امام کے نماز مکمل کرنے کے بعدمسبوق کی اقتداء شرعاً درست نہیں، لہذا صورت مسئولہ میں بقیہ تمام لوگوں کی نماز درست ادانہیں ہوگی، چنانچہ جس شخص نے مسبوق کی اقتداء میں نماز پڑھنے کی نیت کی ہے، اس کے ذمہ نماز کا اعادہ لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففى المحيط البرهاني في الفقه النعماني : لأن حكم صلاةالمسبوق، وحكم صلاة المنفرد مختلفان ألا ترى أن الاقتداءبالمسبوق لا يصح وبالمنفرد يصح، اھ (215)
وفی البحر الرائق: و حقیقة المسبوق ھو من لم یدرک اؤل صلاۃ الامام والمراد بالاول الرکعة الاولیٰ وله احکام کثیرۃ فمنھا انہ منفرد فیما یقضی الا فی اربع مسائل احداھماانہ لایجوز اقتداؤہ ولا اقتداء بہِ لانہ بان تحریمة (الی قولہ) لان کلامھم فیما اذا قام الی قضاء ما سبق بہ وھو فی ھذہ الحالة لا یصح الاقتداء بہ اصلاً (400/1)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59566کی تصدیق کریں
0     784
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات