امامت و جماعت

نابالغ بچے کی اقتداء میں پڑھی گئی نمازوں کا حکم

فتوی نمبر :
59621
| تاریخ :
2004-05-10
عبادات / نماز / امامت و جماعت

نابالغ بچے کی اقتداء میں پڑھی گئی نمازوں کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص جو کہ حافظِ قرآن ہے دیہات کا رہنے والا ہے، صغرِ سنی میں دیہاتی لوگوں نے اس سے وقتاً فوقتاًنمازیں پڑھوائیں، ان نمازوں کی تعداد بھی معلوم نہیں اور مقتدیوں میں سے کئی مقتدیوں کا انتقال بھی ہو گیا ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح پڑھی گئی نمازوں کی تلافی کی کیا صورت ہو سکتی ہے؟جبکہ نمازوں کی تعداد معلوم نہیں اور جو لوگ اس نابالغ بچے کی اقتداء میں نماز پڑھ کر دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، ان کے گناہ کے کفارہ کی کیا صورت ہو سکتی ہے؟اور جو زندہ ہیں ان کے لۓ کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

نابالغ کے پیچھے بالغین کی اقتداء فرض ونفل کسی نماز میں بھی درست نہیں ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جو نمازیں نابالغ امام کے پیچھے پڑھی گئی ہیں وہ ادا نہیں ہوئیں، اب جو مقتدی زندہ ہیں وہ غالب گمان سے ان نمازوں کا اعادہ کر لیں اور اپنی اس جہالت اور گناہ پر صدقِ دل سے توبہ واستغفار بھی کریں اور جو مقتدی فوت ہو چکے ہیں اگر ان کے ورثاء میں سے کوئی وارث اپنے طور پر ان نمازوں کا فدیہ دیدے تو اُمید کی جا سکتی ہے کہ ان سے بھی ان نمازوں میں مؤاخذہ نہ ہو، بلکہ ان کا چھٹکارا ہو جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار: (ولا يصح اقتداء رجل بامرأة)وخنثى (وصبي مطلقا) ولو في جنازة ونفل على الأصح اھ (1/ 576)۔
وفی الدر المختار: والمختار أنه لا يجوز في الصلوات كلها. اهـ. (1/ 578)۔
وفي الدر المختار: (ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة (وكذا حكم الوتر) والصوم، وإنما يعطي (من ثلث ماله) اھ وفی رد المحتار: (قوله ولو لم يترك مالا إلخ) أي أصلا أو كان ما أوصى به لا يفي. زاد في الإمداد: أو لم يوص بشيء وأراد الولي التبرع إلخ وأشار بالتبرع إلى أن ذلك ليس بواجب على الولي اھ (2/ 72)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59621کی تصدیق کریں
0     746
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات