کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے کہ پیش امام کی غیر موجودگی یا بیماری کی وجہ سے ایسا شخص جس کی داڑھی شرعی سنت کے مطابق ہے، قرآن مجید تجوید سے پڑھتا ہے اور نماز کے مسائل سے واقفیت ہے، مگر پولیو کی بیماری کی وجہ سے ایک ٹانگ لاغر ہے جس کی وجہ سے بغیر کسی سہارے لنگڑا کر چلتا ہے، لیکن قیام میں سیدھا کھڑا ہو سکتا ہے، امامت کر سکتا ہے یا نہیں؟ جواب تحریر فرما کر ممنون فرمائیں۔
مذکور شخص کی اقتداء میں نماز پڑھنا بلاشبہ جائز اور درست ہے، اس میں کسی قسم کی کوئی کراہت نہیں، البتہ اگر کوئی دوسرا شخص جو مسائلِ نماز سے بخوبی واقف ہو، قرآن بھی درست پڑھتا ہو اور اس قسم کی بیماری میں بھی مبتلا نہ ہو تو اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔
فی الدر المختار: (قوله ومفلوج وأبرص شاع برصه) وكذلك أعرج يقوم ببعض قدمه، فالاقتداء بغيره أولى اھ(1/ 562)۔
وفی الفتاوى الهندية: ولو كان لقدم الإمام عوج وقام على بعضها يجوز وغيره أولى. كذا في التبيين. (1/ 85)۔