کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ وہ مسبوق جس سےایک رکعت نکل گئی ہے اور اب امام نے چار کے بجائے پانچ رکعت پڑھی ہیں تو مسبوق کی نماز ہوگئی یا نہیں؟
اگر چوتھی رکعت پر بقدرِ تشہد بیٹھنے کے بعد امام نے پانچویں رکعت پڑھی اور مسبوق نے اس کی اقتداء کر لی تو نماز فاسد ہو جائے گی اور اگر امام نے بھولے سے قعدۂ اخیرہ بھی چھوڑ دیا ہو تو اس صورت میں متابعتِ امام کی وجہ سے اس کی یہ نماز نفل ہو جائے گی اور اس پر لازم ہوگا کہ دوبارہ اپنی چار رکعات فرض نماز کا اعادہ کرے۔
فی الدر المختار: ولو قام إمامه لخامسة فتابعه، إن بعد القعود تفسد وإلا لا حتى يقيد الخامسة بسجدة اھ(1/ 599)۔
وفی حاشية ابن عابدين: تحت (قوله وإلا) أي وإن لم يقعد وتابعه المسبوق لا تفسد صلاته لأن ما قام إليه الإمام على شرف الرفض و لعدم تمام الصلاة فإن قيدها بسجدة انقلبت صلاته نفلا، فإن ضم إليها سادسة ينبغي للمسبوق أن يتابعه ثم يقضي ما سبق به وتكون له نافلة كالإمام اھ(1/ 599)۔