کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی جگہ دیوبندی مکتبۂ فکر کی مسجد نہ ہو یا مسجد تو ہو، مگر وہاں جماعت ہو چکی ہو تو اس صورت میں بریلوی کی مسجد میں جمعہ ودیگر نمازیں پڑھنی پڑ جائیں تو کیا اس قول پر عمل کی گنجائش ہے ، جب امام اور مقتدی سب پہلے سے مسجد میں موجود ہوں تو ’’حی علی الفلاح‘‘ پر کھڑے ہوں ؟قرآن و سنت کی روشنی میں مسئلہ کی وضاحت فرمائیں۔
جی ہاں! اس قول پر عمل کی گنجائش ہے اور یہ بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
فی الدر المختار: (ولها آداب) تركه لا يوجب إساءة ولا عتابا كترك سنة الزوائد، لكن فعله أفضل (إلی قوله) (والقيام) لإمام ومؤتم (حين قيل حي على الفلاح) اھ(1/ 477)۔
وفی الفتاوى الهندية: إذا دخل الرجل عند الإقامة يكره له الانتظار قائما ولكن يقعد ثم يقوم إذا بلغ المؤذن قوله حي على الفلاح. كذا في المضمرات. (1/ 57)۔