امامت و جماعت

چار رکعت والی نماز میں ،مسافر مقتدی کا قعدہ میں بیٹھنے سے پہلے امام کا سلام پھیردینا

فتوی نمبر :
59765
| تاریخ :
2006-05-25
عبادات / نماز / امامت و جماعت

چار رکعت والی نماز میں ،مسافر مقتدی کا قعدہ میں بیٹھنے سے پہلے امام کا سلام پھیردینا

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ میں کہ ایک مسافر شخص نے مقیم امام کی اقتداء کی چار رکعت والی نمازمیں جو نہی نیت باندھ لی تو قعدہ میں بیٹھنے سے پہلے امام نے سلام پھیر دیا، اب اس شخص نے اپنے آپ کو مسافر سمجھ کر دو رکعت نماز پڑھ لی ، آیا اس کا دو رکعت نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو وہ شخص چار رکعت کی قضاء کرےگایا دو رکعت کی؟ براہِ کرم اس مسئلہ کی وضاحت فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

شخصِ مذکور پر صرف دو رکعت کی قضاء لازم ہے، جبکہ اس کی مذکور رکعات نفل بن گئی ہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

فی خلاصة الفتاوٰی: ولو إقتدیٰ المسافر بالمقیم وسلم علی رأس الرکعتین أو أفسدها بالکلام ونحوه فانه لا یجب علیه قضاء أربع رکعات وإنما وجب علیه قضاء رکعتین لأن الأربع وجب علیه بحق المتابعة وقد فاتت اھ (۱/۲۰۱)۔
وفي رد المحتار: (قوله وتنقضي قدوة بالأول) أي بالسلام الأول. قال في التجنيس: الإمام إذا فرغ من صلاته فلما قال السلام جاء رجل واقتدى به قبل أن يقول عليكم لا يصير داخلا في صلاته لأن هذا سلام؛ ألا ترى أنه لو أراد أن يسلم على أحد في صلاته ساهيا فقال السلام ثم علم فسكت تفسد صلاته. اهـ. رحمتي (1/ 468)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59765کی تصدیق کریں
0     614
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات