امامت و جماعت

بالغہ بچی کا تراویح میں قرآن سنانا

فتوی نمبر :
59791
| تاریخ :
2004-03-15
عبادات / نماز / امامت و جماعت

بالغہ بچی کا تراویح میں قرآن سنانا

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بچیاں اور بالغ عورتیں نمازِ تراویح اس انداز سے ادا کریں کہ اُن کی ایک صف ہو اور ایک بالغ بچی صف میں کھڑی ہو کر تلاوت کرے اور باقی بچیاں نیت جماعت کی نہ کریں، بلکہ انفرادی نیت کریں، البتہ تلاوت ایک ہی کی ہو اور صف میں شریک تمام بچیاں اس کا قرآن و تلات سنتی رہیں ، آیا ان بچیوں کا اس طرح نمازِ تراویح ادا کرنا درست ہے یا نہیں؟ واضح رہے نمازِ فرض اور وتر ہر ایک بچی علیحدہ علیحدہ ادا کرتی ہے ، اگر یہ طریقہ درست نہ ہو تو بہتر طریقہ بیان فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور طریقہ سے تراویح کی صورت میں صرف قراءت کرنے والی کی نماز درست کہلائےگی بقیہ خواتین کی نہیں، لہٰذا مذکور طرزِ عمل سے احتراز لازم ہے اور خواتین کے لۓ بہتر طریقہ یہ ہے کہ ہر ایک انفرادی طور پر اپنی نمازِ تراویح ادا کرے ،تاہم اگر کوئی حافظہ بچی حفظ کو محفوظ رکھنے کی غرض سے صرف گھر کی عورتوں کو نمازِ تراویح جماعت سے پڑھا دے تو شرعاً اس کی گنجائش ہے، اگرچہ احتراز اس سے بھی بہتر ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار : (و) يكره تحريما (جماعة النساء) و لو التراويح اھ(1/ 565)۔
و فی الفتاوى الهندية : و يكره إمامة المرأة للنساء في الصلوات كلها من الفرائض و النوافل إلا في صلاة الجنازة . هكذا في النهاية اھ(1/ 85)۔
و في تحفة النبلاء في جماعة النساء : و أخرجَ مُحَمَّدُ بنُ الحَسَنِ في كتاب ((الآثار)): أَخْبرنا أَبو حَنِيْفَةَ نا حَمَّاد عن إِبراهيم عن عائشةَ رَضِي الله عَنْهُ : أنَّها كانت تَؤُمُ النِّساءَ في شهرِ رمضانَ ، فتقومُ وَسْطَهُنَّ، قال مُحَمَّدُ : لا يعجبنا أن تَؤُمَ المرأةُ ، فإن فعلتْ قامتْ في وَسْطِ الصَّفِ مع النِّساءِ كما فعلتْ عائشةَ ، و هو قولُ أبي حنيفةَ. انتهي (ص: 15)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59791کی تصدیق کریں
0     1012
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات