کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسافر نے مقیم امام کی اقتداء کی، پھر مسافر مقتدی کو حدث لاحق ہوگیا، جب واپس پہنچا تو امام سلام پھیر چکا تھا، اب اگر مذکور مسافر بناء کرےگا تو چار رکعات پوری پڑھےگا یا فقط دو رکعت، اس مسئلہ کا صریح جزئیہ چاہیے، کیونکہ ایک آدمی کہہ رہا ہے کہ دو پڑھےگا اور دوسرا کہہ ہے کہ چار پڑھےگا، اس لیے قواعد پر اکتفاء کافی نہیں ہے۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور مسافر لاحق اگر "بناء" کرےگا تو چار، ورنہ دو رکعت پڑھےگا۔
فی حاشية ابن عابدين: والأصل أن اللاحق يصلي على ترتيب صلاة الإمام اھ(1/ 596)۔
وفی البدائع: أن اللاحق لیس بمنفرد ألا تریٰ أنه لا قراءة علیه ولا سجود سهو ولکنه قاض مثل ما إنعقد له تحریمة الإمام لأنه التزم اداء هذه الصلاة مع الإمام وبفراغ الإمام فات الأداء معه فیلزمه القضاء والقضاء لا یحتمل التغییر لأن القضاء خلف فیعتبر بحال الأصل وهو صلاة الإمام وقد خرج الأصل عن احتمال التغییر وصار مقیما علی وظیفة المسافرین اھ (۱/۱۰۳)۔