امامت و جماعت

مسبوق اگر امام کے ساتھ بھول کر سلام پھیر دے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے

فتوی نمبر :
59911
| تاریخ :
2006-10-15
عبادات / نماز / امامت و جماعت

مسبوق اگر امام کے ساتھ بھول کر سلام پھیر دے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام درجِ ذیل مسائل کے بارے میں کہ :
۱۔ مسبوق یعنی جس کی ایک رکعت یا دو رکعت رہ گئی ہوں وہ اگر اپنی فوت شدہ نماز کی قضاء کے لۓ کھڑا ہونے کی بجائے امام کے ساتھ بھول کر ایک طرف سلام پھیر دے پھر یاد آنے پر کھڑا ہو کر اپنی نماز پوری کرے تو اس پر سجدہ سہوہ واجب ہوگا یا نہیں؟
۲۔ اگر وتر کی تیسری رکعت میں نمازی بھول کر رکوع میں چلا جائے، لیکن گھٹنوں کو ہاتھ لگے ہوں اور یاد آنے پر واپس قیام کو لوٹ آئے اور پھر دعا ءِ قنوت پڑھ کر دوبارہ رکوع میں جائے تو اس پر سجدہ سہو واجب ہوگا یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکورہ دونوں صورتوں میں سجدہ سہو سے نماز درست ہو جائے گی، جبکہ امام کے ساتھ یا اس سے قبل سہواً سلام پھیرنے کی صورت میں سجدہ سہو بھی لازم نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

فی حاشية ابن عابدين: (قوله والمسبوق يسجد مع إمامه) قيد بالسجود لأنه لا يتابعه في السلام، بل يسجد معه ويتشهد فإذا سلم الإمام قام إلى القضاء، فإن سلم فإن كان عامدا فسدت وإلا لا، ولا سجود عليه إن سلم سهوا قبل الإمام أو معه؛ وإن سلم بعده لزمه لكونه منفرداً اھ(2/ 82)۔
وفیه أیضاً: لو تذكر القنوت في الركوع فالصحيح أنه لا يعود، ولو عاد وقنت لا يرتفض ركوعه وعليه السهو لأن القنوت إذا أعيد يقع واجبا لا فرضا اھ(2/ 81)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59911کی تصدیق کریں
0     1296
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات