کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس تنازع کے متعلق کہ خبیر ایجنسی میں گزشتہ سال سے چند جماعتیں دین کے نام پر باہم دست و گریبان ہیں ، اور نوبت قتل و غارت گری تک آپہنچی ہے ، ایسے میں اگر کوئی ذمہ دار فرد اپنی قوم کو لیکر غیر جانبدار ہوئے ، ان دو متحارب گروپوں میں سے کسی ایک کا بھی ساتھ نہ دینے کا اعلان کر دے ،تو کیا اس فرد اور اس کی قوم کا غیر جانبدار ہو کر مسلح تصادم سے کنارہ کشی اختیار کرنا ، ازروئے شریعت جائز ہے؟
نیز یہ بھی قرآن و حدیث کی روشنی میں بتلائیں کہ ایسے ہی فرقہ ورانہ فسادات کے نتیجے میں مقتول کو شہید اور لڑنے والوں کو غازی کہنا ، اور جانبین میں سے ایک دوسرے کی املاک کو جلا کر خاکستر کر دینا ، شرعی نقطۂ نظر سے کیسا ہے ؟ علاوہ ازیں کیا فروعی مسائل پر مثلاً آمین بالجہر و رفعِ یدین پر مسلح تصادم ، مخالفین کے مابین جائز ہے؟ کیا اس تصادم کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے کو شہید قرار دینا جائز ہے؟
براہِ کرم مذکورہ مسائل کے جواز و عدمِ جواز پر دلیلِ شرعی اور معیاری دلیل بیان فرما کر مشکور فرمائیں۔
سوال میں مذکور دونوں گروہ اگر اسی طرح فروعی مسائل کو بنیاد بنا کر باہم دست گریبان اور ایک دوسرے کے قتل کے درپے ہوں تو ان کا یہ عمل بلاشبہ دین سے دوری اور جہالت پر مبنی ہے ، ایسے حالات میں دیگر ذمہ دار افراد پر لازم ہے کہ اپنی وسعت کی حد تک اس فرقہ وارانہ فسادات کو کم کرنے کی پوری کوشش کریں اور بلاوجہ ان سے علیحدگی اور گوشہ نشینی اختیار کرنا ، قطعاً درست نہیں۔
نیز ایسے حالات اور فرقہ وارانہ فسادات وغیرہ میں جو شخص بھی ، بلا کسی وجہ ظلماً قتل کیا جائے، بلاشبہ وہ مرتبۂ شہادت پائے گا ،جبکہ فریقِ ثانی بجائے غازی کے ظالم اور قاتل ہوگا اور قانونی چارہ جوئی کے ذریعہ اس کے خلاف اقدامات بھی کۓ جاسکتے ہیں ،تاہم خود بدلہ لینے سے احتراز لازم ہے۔
اس کے بعد واضح ہو ، کہ آمین اور رفع الیدین کے مسئلہ میں قرآن و سنت ، صحابہ و تابعین کی عملی زندگی سے آمین آہستہ کہنا اور تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین نہ کرنا اولیٰ و افضل ہونا ثابت ہے ،اور ہمارے ملک میں تمام لوگ اسی مسلک سے متعلق ہیں ، اس لۓ اس کے خلاف کرنا ، اور اسے کفر و اسلام کی جنگ بنانا سراسر بےدینی اور فساد ہے ،جس سے احتراز لازم ہے۔
قال تعالیٰ : و من یقتل مؤمنا متعمداً فجزاؤہ جہنم خالداً فیھا و غضب اللہ علیه و لعنه و أعد له عذاباً عظیماً۔(سورۃ النساء:93)۔
قال اللہ تعالیٰ : و أطیعوا اللہ و رسوله و لاتنازعوا فتفشلوا و تذھب ریحکم و اصبروا إن اللہ مع الصابرین۔(الانفال:46)۔
و فی الصحیح لمسلم : عن جابر بن سمرة قال خرج علینا رسول اللہ -صلی اللہ علیه و سلم- فقال مالی اراکم رافعی أیدیکم کانہا اذناب خیل شمس اسکنوا فی الصلوة اھ(1/181)۔
و فی الدر المختار : الشهيد فعيل بمعنى مفعول لأنه مشهود له بالجنة أو فاعل لأنه حي عند ربه فهو شاهد .(هو كل مكلف مسلم طاهر) (الی قوله) (قتل ظلما) بغير حق (بجارحة) أي بما يوجب القصاص (و لم يجب بنفس القتل مال) بل قصاص ، حتى لو وجب المال بعارض كالصلح اھ(2/ 247)۔
علماءِ دیوبند کی طرف ،اللہ تعالی سے متعلق عقیدۂ کذب کی نسبت کی وضاحت اور حقیقت
یونیکوڈ دینی جماعتیں 0تبلیغی جماعت کا صرف ایک معروف طریقے پر کام کرنا ۲۔مصنوعی دانت لگانے سے وضو کا حکم ۳۔خودکش حملہ کا حکم
یونیکوڈ دینی جماعتیں 0مروجہ تبلیغی جماعت کا حکم ۲۔بغیر وضو کے قرآنِ کریم چھونا ۳۔عصر کے بعد سجدۂ تلاوت کا حکم
یونیکوڈ دینی جماعتیں 0