مفتی صاحب مجھے یہ جاننا ہے کہ کیا امامِ حرمین شریف کی تقلید میں نماز ادا کرنا درست ہے ؟ یہ جانتے ہوئے کہ یہ اہلِ احناف میں سے نہیں ہیں۔
فی زمانہ حرمین شریفین میں اکثریت امامت کرانے والوں کی امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ کے پیروکاروں کی ہے، اور ان کی اقتداء میں حنفی المسلک مقتدی کا بغیر رفعِ یدین کے بھی فرض نماز میں اقتداء کرنا جائز ہے ، جبکہ نمازِ وتر دو سلاموں کے ساتھ پڑھنے کی صورت میں حنفی مقتدیوں کو الگ سے اور ایک سلام سے پڑھنا لازم ہے۔
في الدر المختار : و متابعة الإمام يعني في المجتهد فيه لا في المقطوع بنسخه أو بعدم سنيته كقنوت فجراھ (1/ 470)۔
و فی المؤطا لامام محمد : عن عائشة رضی اللہ عنھا قالت إن رسول اللہ صلی اللہ علیه و سلم کان لا یسلم فی رکعتی الوتر اھ (ص:151)۔