کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام مسئلۂ ذیل کے بارے میں کہ کیا بریلوی امام کی اقتداء میں نماز ہو جاتی ہے یا نہیں؟ اور جبکہ امام ایسا عقیدہ رکھتا ہو کہ ہر نماز کے بعد اجتماعاً مندرجہ ذیل دعا کا اہتمام کرتا ہو دعا یہ ہے :
’’یا رسول اللہ اُنظر حالنا ، یا حبیب اللہ اسمع قالنا إننا لفی بحرہم مغرَقون خُذ بأیدینا و سھل لنا اشکالنا‘‘۔ براہ ِکرم قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دیکر ممنون فرمائیں۔
سوال میں مذکور خط کشیدہ دعائیہ کلمات اگر چہ آپ علیہ السلام کے عشق اور فرطِ محبت میں کہے جائیں جب بھی موہمِ شرک ضرور ہیں، جو امام مسئلہ شرعی جاننے کے باوجود ایسی ناجائز حرکات کا مسلسل ارتکاب کرتا ہو ، اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے اور اُسے اپنے اختیار سے منصبِ امامت کے لیے منتخب کرنا جائز نہیں ، اس لیے سوال میں مذکور امام موصوف پر لازم ہے کہ اس قسم کے موہمِ شرک دعائیہ کلمات دوہرانے یا اس قسم کا عقیدہ اختیار کرنے سے احتراز کرے ، تا کہ اس کی اقتداء میں نماز بلا کراہت جائز اور درست ادا ہو سکے۔
تاہم جب تک کسی نیک و صالح اور متّبعِ شریعت امام کا انتظام نہ ہو سکے اُس وقت تک اکیلے نماز پڑھنے سے اسی کی اقتداء میں باجماعت نماز پڑھنے کی گنجائش ہے۔
فی الدر : (و يكره إمامة عبد و أعرابي و فاسق و أعمى)(إلا أن يكون) أي غير الفاسق (أعلم القوم) فهو أولى (و مبتدع) أي صاحب بدعة و هي اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول اھ (1/ ۵۵۹،۵۶۰)۔
و فی البدائع : و ذكر في المنتقى رواية عن أبي حنيفة أنه كان لا يرى الصلاة خلف المبتدع ، و الصحيح أنه إن كان هوى يكفره لا تجوز ، و إن كان لا يكفره تجوز مع الكراهة اھ(۱/۱۵۷)۔