کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام ، علماءِ دینِ متین بیچ اس امر کے ، کہ ایک شخص کا کافی عرصہ سے اپنی بیوی کیساتھ گھریلو جھگڑا چل رہا تھا بالآخر بیوی ناراض ہوکر اپنے والدین کے گھر جابیٹی۔
اس شخص نے کورٹ میں کیس کردیا ، کیس بھی کافی عرصے تک چلتا رہا ، اچانک ایک دن کورٹ کیطرف سے ایک لیٹر برآمد ہوا جس میں یہ درج تھا کہ پندرہ دن کے اندر اندر رجوع کریں ورنہ سولہویں دن طلاق طلاق طلاق واقع ہوجائیگی ، یاد رہے کہ اس لیٹر پر شوہر کے دستخط بھی موجود ہیں مگر شوہر دستخط کا انکاری ہے ، برائے مہربانی۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں اور بتائیں کے سولہویں دن طلاق واقع ہوجائیگی یا نہیں جبکہ کورٹ کیطرف لڑکی یا اس کے گھر والوں نے سولہویں دن بھی رجوع نہیں کیا۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور تحریر اگر واقعۃً شوہر نے خود یا اسکی اجازت اور مشورے سے اس کے وکیل نے تیار کی ہو اور شوہر نے اس پر دستخط کئے ہوں تب تو مذکورہ تینوں طلاقیں وقت متعینہ پر واقع ہو کر حرمتِ مغلظ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور بغیر حلالہ شرعیہ دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا۔
ورنہ کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، حسبِ سابق باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں۔
و فی الشامیۃ : و لو استکتب من آخر کتابا بطلاقھا و قرأہ علی الزوج فاخذہ الزوج و ختمہ و عنونہ و بعث بہ إلیھا فأتاھا وقع اِن أقر الزوج انہ کتابہ أو قال للرجل ابعث بہ إلیھا ، أو قال لہ اکتب نسخۃ و ابعث بہا إلیھا ، و إن لم یقرأنہ کتابہ و لم تقم بینۃ لکنہ وصف الامر علی وجھہ لا تطلق قضاء و لا دیانۃ، و کذا کل کتاب لم یکتبہ بخطہ و لم یملہ بنفسہ لایقع الطلاق مالم یقرأنہ کتابہ اھـ ملخصا۔ (ص۲۴۷، ج۳)۔