کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ان چند مسائل کے بارے میں کہ :
(۱) میرا نام ظفر الاسلام ہے ، میں آسٹریلیا میں پڑھتا ہوں ، میں معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کا کھانا حلال ہے ؟ لیکن مجھے شبہ ہے کہ میں گوشت (جو وہاں دکانوں پر موجود ہے) کھاسکتا ہوں ؟ کیونکہ وہ جھٹکا کرتے ہیں ، یہ حلال ہے یا حرام؟
(۲) دوسری بات میں معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ کچھ کھانے ایسے ہیں جن کے اجزاء مشکوک ہیں کہ وہ حرام ہیں ،شبہ ہے کہ اس میں سور کا گوشت شامل ہے ، لیکن یقینی نہیں کیونکہ بنانے والوں نے تحریر نہیں کیا ، کیا میں ان مشکوک کھانوں سے احتراز کروں ؟ اور اگر میں کھالوں ؟ کیونکہ 100% یقین نہیں کہ یہ حرام ہے
(۳) میں غیر مسلموں کے ساتھ پڑھتا ہوں، میرے نام کے ساتھ الاسلام لگا ہوا ہے ، جس سے الحمدﷲ معلوم ہوجاتا ہے کہ میں مسلمان ہوں ، کوئی غیر مسلم معلوم کرتے ہیں کہ تمہارے مذہب نے سور کو کیوں حرام قرار دیا ہے؟ گو میں ان سے بحث کرنا نہیں چاہتا ، میں معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ کونسی وجہ ہے ، جو یہ حرام قرار دیا گیا؟ تاکہ اس سے اپنا دفاع کرسکوں۔
امید ہے کہ اپنا قیمتی وقت نکال کے میرے سوال کا جواب دیں گے۔ شکریہ
(۱) جھٹکا یعنی مشینوں کے ذریعہ جانور ذبح کرنے کا کوئی ایک طریقہ متعین نہیں ، بلکہ مختلف ملکوں اور شہروں میں اس کی مختلف صورتیں رائج ہیں ، ان میں سے ایک صورت وہ بھی ہے جسے اسلامی ذبیحہ کا نام دیاجاتا ہے ، اس طریقہ میں مشین کا کام صرف جانور کو قابو کرنے کا ہوتا ہے اور جانور کو ذبح کوئی انسان اپنی چُھری سے کرتا ہے ، پھر کھال ، بال ، ہڈی وغیرہ صاف کرنے کا کام سب مشین کرتی ہے ، اگر سائل کے یہاں یہ طریقہ نہ ہو اور اس جھٹکے میں ذبح کے دوران کاٹی جانے والی چاروں رگیں یا اُن میں سے اکثر نہ کٹتی ہوں یا ذبح کرنے والا مسلمان یاکتابی نہ ہو، یا ذکر کردہ سب شرائط ہوں (چاروں رگیں یا اکثر کٹ گئی ہوں اور ذبح کرنے والا مسلمان ہو) مگر بوقتِ ذبح اﷲ کا نام لینا قصداً چھوڑدیا گیا ہو یا کسی غیر اﷲ کے نام پر ذبح کردیا گیا ہو ، تو ان تمام صورتوں میں وہ ذبیحہ حلال نہیں ہوگا ، لہٰذا جس جھٹکے میں مذکورہ بالا شرائط کا اہتمام کیا جاتا ہو اس کا ذبیحہ کھانا جائز اور حلال ہوگا ، ورنہ وہ ذبیحہ حرام ہے ، جس کا استعمال کسی مسلمان کیلئے جائز نہیں ، اور جب تک اس جھٹکے کی صحیح صورت حال معلوم نہ ہوسکے اس وقت تک مشینی ذبیحہ کے گوشت سے احتیاط واجب ہے۔
(۲) جب تک ایسے کھانوں کے بارے میں ظنِ غالب یا تحقیق کے ذریعہ ان میں حرام اجزاء کی آمیزش کا یقین نہ ہوجائے ، اس وقت تک ایسے کھانوں کے کھانے کی شرعاً گنجائش ہے ، تاہم احتیاطاً احتراز و گریز کرنا بہرحال اولیٰ و بہتر ہے۔
(۳) کسی چیز کے حلال و حرام ہونے کی بنیاد اﷲ اور اسکے رسول کا حکم ہے ، چونکہ اﷲ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں ، اپنے پاک پیغمبر نبی کریم ﷺ کے ذریعہ اسے حرام سمجھنے اور استعمال نہ کرنے کا ہمیں حکم دیا ہے اس لئے ہم اس کے پابند ہیں کہ اسے حرام ہی سمجھیں، لہٰذا ایک مسلمان کیلئے اتنا ہی کافی ہے ، البتہ علم الحیوانات والے بتاتے ہیں کہ جانور پالنے اور اس کا گوشت کھانے سے ان جانوروں کی صفات پالنے والے میں اور کھانے والے میں منتقل ہوتی ہیں ، کیونکہ صحبت کا اثر ضرور ہوتا ہے اور خنزیر چونکہ غلیظ گندا اور بے حیاء جانور ہے ، اس کا گوشت کھانے والا بھی ان اثرات سے محفوظ نہیں رہے گا ، اس لئے اس کے استعمال سے احتراز لازم اور ضروری ہے اور یہی انسانی عقل کا بھی تقاضا ہے۔ واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم!
قال اﷲ تعالٰی : {اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃَ وَ الدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَآ اُہِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ}۔(البقرۃ: ۱۷۳)۔
و قال تعالٰی : {وَ لَا تَأْکُلُوْا مِمَا لَمْ یَذْکُرِ اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہِ وَ اِنَّہٗ لَفِسْقٌ وَ اِنَّ الشَّیَاطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰی اَوْلِیَآئِہِمْ لِیُجَادِلُوْکُمْ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْہُمْ اِنَّکُمْ لَمُشْرِکُوْنَ}۔(الانعام: ۱۲۱)۔
مشینی جھٹکے سے ذبح شدہ جانور اور مشکوک و نامعلوم کھانوں کا حکم
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0فیکٹری مالک کو بتائے بغیر ، اس کی فیکٹری سے پانی و بجلی استعمال کرنا
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0بلی اگر آٹا جھوٹا کرلے تو اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے-کن کن جانوروں کا جھوٹا پاک ہے؟
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0