کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایسا شخص جو نہ عالم ہے اور نہ حافظ، جس کا ذریعۂ آمدن اور روزگار کلی طور پر تعویذوں کی آمدن پر ہو ، اور اس کے پاس بے پردہ عورتیں کثرت کے ساتھ تعویذوں کے لیے آتی ہوں، اور اُس کا کثرت کے ساتھ حجرے میں ان عورتوں سے میل جول ہو اور یہ عورتیں تعویذوں کے لیے مسجد کے اندر سے ہو کر گزرتی ہیں، اور اکثر نمازوں کے وقت لوگ ان عورتوں کی بے پردگی کی وجہ سے نگاہوں کی بدکاری کے مرتکب ہو جاتے ہیں اور ایساہی مذکور شخص جو کہ عارضی امام بھی ہے اسی حالت میں عورتوں کے درمیان سے اٹھ کر نماز پڑھانے کے لیے مصلّے پر کھڑا ہو جاتا ہے جبکہ ٹرسٹ کی طرف سے باقاعدہ ایک عالم مقرر ہے جو جمعہ المبارک کا بیان اور نماز پڑھاتا ہے اور عید کی نماز بھی، اور وہ پیچھے مقتدیوں میں کھڑا ہوتا ہے عام نمازوں میں تو ایسے پیر صاحب کی نماز پڑھانا جائز ہے یا نہیں؟جبکہ ٹرسٹ کمیٹی اور نمازی بھی اس کے حق میں نہیں ہیں؟
تعویذ اگر جائز الفاظ پر مشتمل ہو اور جائز مقصد کے لیے کیا جائے تو یہ شرعاً جائز اور اس پر معاوضہ لینا حلال ہے، مگرشخصِ مذکور اگر واقعۃً جاہلِ محض ( یعنی قدر ماتجوز بہ الصلوۃ قراءت و مسائلِ نماز سے ناواقف ) ہو اور غیر محارم عورتوں سے بے حجابانہ میل جول رکھنے کے گناہ کا بھی مرتکب ہو تو ایسے شخص کو اپنے اختیار سے امام بنانا جائز نہیں، اور ایسے شخص کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے، لہٰذا شخصِ مذکور پر لازم ہے کہ اپنے مذکور گناہ سے مکمل احتراز کرے اور نماز و مسائلِ نماز سے واقفیت حاصل کرے اور اہلِ محلہ کے مقرر کردہ امام کی موجودگی میں نماز پڑھانے سے بھی اجتناب کرے، تاکہ لوگوں میں انتشار نہ پھیلے۔
ففی الدر المختار: (و) اعلم أن (صاحب البيت) و مثله إمام المسجد الراتب (أولى بالإمامة من غيره) مطلقا(1/ 559)۔
و فی حاشية ابن عابدين: و أما الفاسق فقد عللوا كراهة تقديمه بأنه لا يهتم لأمر دينه، و بأن في تقديمه للإمامة تعظيمه، و قد وجب عليهم إهانته شرعا، و لا يخفى أنه إذا كان أعلم من غيره لا تزول العلة، فإنه لا يؤمن أن يصلي بهم بغير طهارة فهو كالمبتدع تكره إمامته بكل حال، بل مشى في شرح المنية على أن كراهة تقديمه كراهة تحريم اھ(1/ 560)۔