امامت و جماعت

سنتوں کے بعد اجتماعی دعا کرنے والے امام کا پیچھے نماز کا حکم

فتوی نمبر :
60546
| تاریخ :
2008-05-27
عبادات / نماز / امامت و جماعت

سنتوں کے بعد اجتماعی دعا کرنے والے امام کا پیچھے نماز کا حکم

(۱)۔کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ چونکہ ہمارے گاؤں میں ایک ہی مسجد ہے اور اس مسجد کا امام چونکہ سنتوں کے بعد دعا کو لازمی سمجھتا ہے تو آیا میں اس امام کے پیچھے نماز باجماعت ادا کروں یا اکیلے نماز پڑھا کروں؟
(۲)۔ اگر کسی طالب علم نے تقریباً پانچویں تک سکول پڑھا ہو اور وہ کسی حد تک لکھنا پڑھنا جانتا ہو ،لیکن متوسطہ نہیں پڑھا ہو اور اولیٰ میں داخلہ کے لیے کسی سکول یا مدرسہ سے جعلی سرٹیفکیٹ بنوائے یہ جائز ہے یا ناجائز؟
نوٹ: دعا کو لازمی سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ امام ہر نماز کی سنتوں کے بعد اجتماعی دعا کرواتا ہے اور جو اس کے ساتھ اجتماعی دعا میں شریک نہ ہو اس کے بارے میں کہتا ہے کہ یہ صحیح نہیں ہے، باقی عقائد کے اعتبار سے وہ دیوبندی کہلاتا ہے، کیونکہ صلوٰۃ و سلام جو کہ مروج ہے یا اس طرح کی کوئی اور بدعت بظاہر اس میں نظر نہیں آتی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱)۔ سنتوں کے بعد بہ ہئیتِ اجتماعیہ دعا کرنا قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر یعنی دورِصحابہ و تابعین اور تبع تابعین سے ثابت نہیں، اس کو ثابت اور لازم سمجھنا درست نہیں، اس سے احتراز چاہیے، جبکہ کوئی دوسرا متقی پرہیز گار امام نہ ہونے کی صورت میں ایسے امام موصوف کی اقتداء میں نماز پڑھنا بھی جائز اور درست ہے، تاہم امام موصوف کو چاہیے کہ اس مسئلہ میں اکابر علماء سے مسئلہ کی پوری تحقیق کے بعد عوام الناس کو بھی سمجھا دے تاکہ بلاوجہ کے باہمی اختلاف و انتشار سے حفاظت ہو سکے۔
(۲)۔ مذکور طرزِ عمل دھوکہ دہی اور جھوٹ پر مبنی ہو کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام ہے، لہٰذا اس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی مجموعة مسائل اللکھنوی: فکم من مباح یصیر بالا لتزام من غیر لزوم و التخصیص من غیر مخصص (الی قوله) مکروھاً کماصرح به علی القاری فی شرح المشکوة، و الحصفکی فی الدر المختار الخ (ج3ص490)۔
و فی مجموعة قواعدالفقه: ھی الامر المحدث الذی لم یکن علیه الصحابة و التابعیون و لم یکن مما اقتضاہ الدلیل الشرعی اھ (ص204)۔
و فی الدر: صلی خلف فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة اھ (1/562)۔
و فی الغنیة: و لھذا ذکر فی المحیط أنه لو صلی خلف فاسق أو مبتدع احرز ثواب الجماعة اھ(ص:514)۔
و في صحيح ابن حبان: عن زر عن عبدالله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: (من غشنا فليس منا والمكر والخداع في النار) اھ (2/ 326)۔
و في مصنف ابن أبي شيبة: عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من غشنا فليس منا اھ(4/ 563)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60546کی تصدیق کریں
0     719
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات