کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عامل چوری کے کیس میں معلومات کےلیے جوتے میں کیل ٹھونک کر بعد ازاں سورۃ یسین شریف کا وظیفہ پڑھتا ہے اور پھونکتا ہے اور اس ٹوٹکے سے کسی شخص کا نام لے کر چور ہونے کا حکم لگاتا ہے۔
آپ صاحبان سے پوچھنا یہ ہے کہ آیا شریعت میں اس کا یہ عمل جائز ہے یا نہیں؟ اور کیا اس سے قرآن کی بے حرمتی ہوتی ہے یا نہیں؟ نیز اس کے کہنے سے اس شخص کا چور ہونا ثابت ہوتا ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور عمل سے کسی مجرم اور چور کی کھوج لگانے اور اُسے مجرم منتخب کرنے کا جو عمل اور طریقہ کار ہے نہ صرف یہ کہ شرعاً اس کا کوئی ثبوت نہیں، بلکہ خلافِ شریعت اور ناجائز ہونے کے ساتھ قرآن کریم کی بے حرمتی اور عوام الناس کے عقائد خراب کرنے کو بھی شامل ہے ،جو ایک بہت بڑا گناہ ہے، اس لیے شخصِ مذکور ’’عامل‘‘پر لازم ہے کہ فوراً اپنے اس ناجائز عمل سے توبہ و استغفار کرے اور اپنے اس باطل عمل کی وجہ سے جتنے بے گناہ لوگوں کو مجرم شمار کر کے اُن کی جان و مال کا نقصان کیا ہے، اُن سے دست بستہ معذرت کرے اور اُن کا مال بھی اُنہیں واپس دلوائے، اور آئندہ کے لیے ایسے باطل نظریات و عملیات سے مکمل احتراز بھی کرے۔
ففی فتح الله الحميد المجيد في شرح كتاب التوحيد: منهم من كان يزعم أنه يعرف الأمور بمقدمات أسباب يستدل بها على مواقعها من كلام من يسأله أو فعله أو حاله وهذا يخصونه باسم العراف كالذي يدعي معرفة الشيء المسروق و مكان الضالة و نحوهما. روى مسلم في صحيحه عن بعض أزواج النبي - صلى الله عليه وسلم - عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: "من أتى عرافاً فسأله عن شيء فصدقه لم تقبل له صلاة أربعين يوماً" و عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: "من أتى كاهناً فصدقه بما يقول فقد كفر بما أنزل على محمد" رواه أبو داود اھ(ص: 327)
و فی حاشية ابن عابدين: و منهم أنه يعرف الأمور بمقدمات يستدل بها على موافقها من كلام من يسأله أو حاله أو فعله و هذا يخصونه باسم العراف كالمدعي معرفة المسروق و نحوه، و حديث "من أتى كاهنا" يشمل العراف و المنجم. (1/ 45)۔
و فی حاشية ابن عابدين: و العراف: المنجم. و قال الخطابي: هو الذي يتعاطى معرفة مكان المسروق و الضالة و نحوهما اهـ. و الحاصل أن الكاهن من يدعي معرفة الغيب بأسباب و هي مختلفة فلذا انقسم إلى أنواع متعددة كالعراف و الرمال و المنجم: و هو الذي يخبر عن المستقبل بطلوع النجم و غروبه، و الذي يضرب بالحصى، و الذي يدعي أن له صاحبا من الجن يخبره عما سيكون، و الكل مذموم شرعا ، محكوم عليهم و على مصدقهم بالكفراھ. (4/ 242)۔