کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جب لوگ جمع ہو کر ایک ساتھ قرآن خوانی کرتے ہیں ، چاہے میت کے ایصالِ ثواب کے لیے ہو ، یا کسی خیر و برکت کے لیے ہو یا کسی مصیبت کو دفع کرنے کے لیے ہو ، آیا اس طرح کرنا جائز ہے یا نہیں؟
اس میں کھانا کھلانا جائز ہے یا نہیں؟ اور پیسے لینا اور دینا جو کہ عام طور پر کیا جاتا ہے، اس میں جواز و عدم کی تمام صورتوں کو مکمل تفصیل کے ساتھ واضح فرمائیں ،بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جو میت کے ایصالِ ثواب کے لیے کیا جاتا ہے تو اس میں کھانا کھلانا اور اس طریقے پر پیسے دینا درست نہیں اور اس کے علاوہ جو کیا جاتا ہے اس میں مذکور دونوں چیزوں درست ہیں۔
خیر و برکت اور دفعِ مضرّت کے لیے قرآن خوانی کرانا ، دم کرنے کے حکم میں ہے اور یہ بلاشبہ جائز اور درست ہے اور اس موقع پر کھانا وغیرہ کھانے کی بھی گنجائش ہے، مگر ایصالِ ثواب کے لیے چونکہ شریعتِ مطہرّہ نے کسی مخصوص عمل کی کوئی تخصیص نہیں فرمائی، بلکہ تمام اعمالِ بدنیہ و مالیہ و غیرہ کے ساتھ عام رکھا ہے، اس لیے ایصالِ ثواب میں مروّجہ تخصیصات اور قرآن پڑھوانے پر اجرت وغیرہ امور شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
ففی صحيح البخاري: وقال ابن عباس: عن النبي - صلى الله عليه وسلم -: «أحق ما أخذتم عليه أجرا كتاب الله»(3/ 92)۔
و فی فتح الباري لابن حجر: و قال بن عباس عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أحق ما أخذتم عليه أجرا كتاب الله هذا طرف من حديث وصله المؤلف رحمه الله في الطب واستدل به للجمهور في جواز أخذ الأجرة على تعليم القرآن و خالف الحنفية فمنعوه في التعليم و أجازوه في الرقى كالدواء قالوا لأن تعليم القرآن عبادة و الأجر فيه على الله و هو القياس في الرقى إلا أنهم أجازوه فيها لهذا الخبر(4/ 453)۔
و فی حاشية ابن عابدين: و في البزازية: و يكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول و الثالث و بعد الأسبوع و نقل الطعام إلى القبر في المواسم، و اتخاذ الدعوة لقراءة القرآن و جمع الصلحاء و القراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص. و الحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره. (2/ 240)۔
و فیه أیضاً: فالحاصل أن ما شاع في زماننا من قراءة الأجزاء بالأجرة لا يجوز؛ لأن فيه الأمر بالقراءة و إعطاء الثواب للآمر و القراءة لأجل المال؛ فإذا لم يكن للقارئ ثواب لعدم النية الصحيحة فأين يصل الثواب إلى المستأجر و لولا الأجرة ما قرأ أحد لأحد في هذا الزمان بل جعلوا القرآن العظيم مكسبا و وسيلة إلى جمع الدنيا - إنا لله وإنا إليه راجعون - اهـ. (6/ 56)۔
و فیه أیضاً: و قد قال العلماء: إن القارئ إذا قرأ لأجل المال فلا ثواب له فأي شيء يهديه إلى الميت، و إنما يصل إلى الميت العمل الصالح، و الاستئجار على مجرد التلاوة لم يقل به أحد من الأئمة(6/ 57)۔