قرآن خوانی

بے وضو فاتحہ خوانی کرنے اور بخشنے کا حکم

فتوی نمبر :
6724
| تاریخ :
2020-10-26
عبادات / نوافل عبادات / قرآن خوانی

بے وضو فاتحہ خوانی کرنے اور بخشنے کا حکم

کیا بغیر وضو قبرستان جاکر فاتحہ خوانی کی جاسکتی ہے؟ نیز اس میں کیا پڑھیں اور مردے کو کیسے بخشیں؟ کیا نبی کریم ﷺ کو بھی اس کا ثواب بخشا جاسکتا ہے؟ دن اور رات میں زوال کا دائمی وقت نئے اور پرانے ٹائم کے مطابق کب سے کب تک ہے؟ سنت، نفل اور واجب وتر کی نماز کی کسی رکعت میں اگر سورۂ فاتحہ پڑھنا بھول جائیں تو کیا وہ نماز پھر سے پڑھنی ہوگی؟ براہِ کرم ان سوالوں کے جواب ارسال فرمادیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جی ہاں! بغیر وضو بھی میت کے ایصالِ ثواب کے لیے جو کچھ قرآن سے یاد ہو پڑھ کر بخشا جاسکتا ہے اور اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ سورۂ اخلاص، سورۂ الہاکم التکاثر اور سورۂ فاتحہ تین، تین مرتبہ پڑھ کر میت کو اس کا ثواب بخش دے، اور ایصالِ ثواب میں بہتر ہے کہ سب سے پہلے اس کا ثواب آپ ﷺ کی روحِ مبارک کو پھر تمام مؤمنین و مؤمنات کو، اس کے بعد جس میت کو ثواب پہنچانا ہو آپ علیہ السلام کے واسطے سے پہنچادے۔
جبکہ زوال کا وقت ہر روز کا مختلف ہوتا ہے، اس لیے سائل کو چاہیے کہ وہ پروفیسر عبد اللطیف صاحب کی دائمی نقشہ اوقات نماز کی ایک کاپی منگواکر پاس رکھ لے اور بوقتِ ضرورت دیکھ لیا کرے۔
جبکہ مذکور نمازوں کی کسی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے رہ جانے سے سجدہ سہو واجب ہوتا ہے، اگر سجدہ نہ کیا ہو اور وقت کے اندر اندر یاد آجائے تو پھر اس نماز کو دوہرالیا جائے اور اگر وقت ختم ہوجائے یا بعد میں یاد آئے تو پھر توبہ واستغفار ہی لازم ہے، جبکہ اِعادہ اس صورت میں بھی اَحوط ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی مشكاة المصابيح: وعن معقل بن يسار المزني - رضي الله عنه - أن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: «من قرأ (يس) ابتغاء وجه الله تعالى غفر له ما تقدم من ذنبه فاقرؤوها عند موتاكم» . رواه البيهقي في شعب الإيمان(1/ 668)
وفی حاشية ابن عابدين: صرح علماؤنا في باب الحج عن الغير بأن للإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها كذا في الهداية، بل في زكاة التتارخانية عن المحيط: الأفضل لمن يتصدق نفلا أن ينوي لجميع المؤمنين والمؤمنات لأنها تصل إليهم ولا ينقص من أجره شيء اهـ هو مذهب أهل السنة والجماعة۔(2/ 243)
و فی الفقه الإسلامي وأدلته: ويستحب للزائر أن يقرأ سورة {يس} لما ورد عن أنس أنه قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «من دخل المقابر فقرأ يس ـ أي وأهدى ثوابها للأموات ـ خفف الله عنهم يومئذ، وكان له بعدد ما فيها حسنات» وقال - عليه السلام -: «اقرؤوا على موتاكم يس» اه (2/ 1569)
وفي البحر الرائق: وقوله (ومنع الحدث المس) أي مس القرآن (ومنعهما) أي المس وقراءة القرآن (الجنابة والنفاس) ، وقد تقدم بيان أحكام النفاس اه (1/ 213) والله أعلم بالصواب!
فی الشامیة: صرح علماء فی باب الحج عن الغیر: بأن للانسان ان یجعل ثواب عمله لغیره صلوٰة او صوما او صدقة أو غیرها. الافضل لمن یتصدق نفلا ان ینوی لجمیع المومنین والمومنات لانها تصل الیهم، ولا ینقص من اجره شیء. (ج۲، ص۲۴۳)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 6724کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • بے وضو فاتحہ خوانی کرنے اور بخشنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   قرآن خوانی 1
  • مروّجہ اجتماعی قرآن خوانی اور اس میں کھانا پینا اور پیسے لینا

    یونیکوڈ   قرآن خوانی 0
  • اہلِ میت کے ہاں مروجہ قرآن خوانی کا حکم

    یونیکوڈ   قرآن خوانی 0
  • گھر میں عورتوں کو جمع کرکے قرآن خوانی کرانا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   قرآن خوانی 1
  • طلباء کو گھر بلوا کر ان سے قرآن خوانی کروا کر ان کی ضیافت کرنا

    یونیکوڈ   انگلش   قرآن خوانی 0
  • میت کے انتقال کے بعد پیسے تقسیم کرنا اور قرآن خوانی کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   قرآن خوانی 0
  • کاروبار میں برکت کیلئے قرآن خوانی کروانا

    یونیکوڈ   قرآن خوانی 0
Related Topics متعلقه موضوعات