کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مفتیانِ عظام ا س مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص اکثر بچوں کو قرآن خوانی کیلئے اپنے گھر لے جاتے ہیں اور ضیافت بھی کرتے ہیں اور یہ شخص ضیافت اور قرآن خوانی کو لازم وملزوم نہیں سمجھتا، جبکہ قرآن خوانی کبھی کبھار کراتے ہیں، اور ضیافت اکثر کرتے ہیں، مسئلہ دریافت طلب یہ ہے کہ اس طرح قرآن خوانی اور ضیافت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنائت فرمائیں ۔
سوال میں مذکور صورت میں اگر واقعۃً صرف خیر و برکت کے لئے طلباء کو گھر پر بلایا جاتا ہو اور ان سے گھر کی خیر وبرکت کے لئے کچھ پڑھوا کر اس کے بعد ان کا کچھ اکرام کیا جاتا ہو تو یہ صورت بظاہر قران خوانی کا عوض نہیں اس لئے یہ فریقین کے حق میں جائز اور درست ہے ۔
کمافی الشامیۃ: لان المتقدمین الستئجار مطلقاً جوزوا الرقیة بالاجرۃ ولو بالقران کما ذکرہ الطحاوی لانھا لیست عبادۃ محضة بل من التداوی اھ (6/57)۔
وفی الفقہ الاسلامی: اختلف العلماء فی وصول ثواب العبارات البدنیة المحضة کالصلاۃ والتلاوۃ القرآن (الیٰ قولہ) لان محل القراءۃ تنزل فیہ والبرکة والدعاء عقبھا ارجیٰ للقبول اھ (2/551)۔