امامت و جماعت

چالیسویں کا کھانا کھانے والےکی امامت

فتوی نمبر :
60705
| تاریخ :
2009-01-28
عبادات / نماز / امامت و جماعت

چالیسویں کا کھانا کھانے والےکی امامت

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک دیوبند ی امام ہے جو تقریباً اٹھارہ(۱۸) سال سے مسجد میں نماز پڑھا رہا ہے، یہ امام مردے کے چالیسویں کا کھانا بھی کھاتا ہے، آیا اس امام کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں؟اور انتظامیہ اس امام کو ہٹا سکتی ہے یانہیں؟ براہِ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

چالیسویں کا کھانا کرنا محض رسم ہے، جس کے اہتمام سے احتراز لازم ہے، تاہم اس قسم کا کھانا اگر کسی نے کھا لیا تو اسے حرام کھانے والا نہیں کہا جا سکتا اور محض کھانے کی وجہ سے اسے امامت سے بھی برخواست کرنا درست نہیں، البتہ اگر کسی زیادہ متقی و پرہیزگار اور متبعِ شریعت شخص کو جو مسائلِ نماز سے واقفیت رکھنے کے ساتھ ساتھ قرأت بھی اچھی کرتا ہو منصبِ امامت کے لیے مقرر کیا جائے اور موصوف کو ان کا نائب منتخب کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے وظیفہ کو بھی حسبِ سابق برقرار رکھا جائے تو اس میں بھی حرج نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی رد المحتار: و قال أيضا: و يكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، و هي بدعة مستقبحة: و روى الإمام أحمد و ابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال "كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت و صنعهم الطعام من النياحة". اھ. و في البزازية: و يكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول و الثالث و بعد الأسبوع و نقل الطعام إلى القبر في المواسم، و اتخاذ الدعوة لقراءة القرآن و جمع الصلحاء و القراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص. و الحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره. و فيها من كتاب الاستحسان: و إن اتخذ طعاما للفقراء كان حسنا اهـ و أطال في ذلك في المعراج. و قال: و هذه الأفعال كلها للسمعة و الرياء فيحترز عنها لأنهم لا يريدون بها وجه الله تعالى. اهـ. و بحث هنا في شرح المنية بمعارضة حديث جرير المار بحديث آخر فيه «أنه - عليه الصلاة والسلام - دعته امرأة رجل ميت لما رجع من دفنه فجاء و جيء بالطعام» . أقول: و فيه نظر، فإنه واقعة حال لا عموم لها مع احتمال سبب خاص، بخلاف ما في حديث جرير. على أنه بحث في المنقول في مذهبنا و مذهب غيرنا كالشافعية و الحنابلة استدلالا بحديث جرير المذكور على الكراهة، و لا سيما إذا كان في الورثة صغار أو غائب، مع قطع النظر عما يحصل عند ذلك غالبا من المنكرات الكثيرة كإيقاد الشموع و القناديل التي توجد في الأفراح، و كدق الطبول، و الغناء بالأصوات الحسان، و اجتماع النساء و المردان، و أخذ الأجرة على الذكر و قراءة القرآن، و غير ذلك مما هو مشاهد في هذه الأزمان، و ما كان كذلك فلا شك في حرمته و بطلان الوصية به، و لا حول و لا قوة إلا بالله العلي العظيم اھ (2/240)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60705کی تصدیق کریں
0     644
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات