ساس کو شہوت سے شافعی مسلک کی نیت سے شہوت سے چھولیا،لیکن میں حنفی المسلک ہوں ،کیا میری بیوی میرے لیے حرام ہوگئی؟شافعی مسلک میں ساس کو شہوت سے چھونے سے بیوی حرام نہیں ہوتی،یہ مجھے معلوم تھا۔
سائل کے لیے اپنی ساس کو شہوت کے ساتھ چھونا ناجائز اور حرام عمل تھا،جس کی وجہ سے سائل سخت گناہ گار ہوا ہے،جس پر اسے بصدقِ دل تو بہ واستغفار اور آئندہ کے لیے ایسے افعال سے مکمل اجتناب لازم ہے،جبکہ سائل نے اگر اپنی ساس کے جسم کو بغیر کسی حائل (کپڑے وغیرہ) کے شہوت کے ساتھ چھوا تھا،تو اس کی وجہ سے سائل پر اس کی بیوی حرام ہوچکی ہے،لہذا سائل پر لازم ہے کہ الفاظ متارکہ کہہ کر یا طلاق دیکر اپنی بیوی سے فورا علیحدگی اختیار کریں،ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے،جبکہ الفاظِ متارکہ وغیرہ کے بعد بیوی عدت گزار کر دوسری جگہ اپنی مرضی سے نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
کمافی الفتاوى الهندية: وكما تثبت هذه الحرمة بالوطء تثبت بالمس والتقبيل والنظر إلى الفرج بشهوة، كذا في الذخيرة. سواء كان بنكاح أو ملك أو فجور عندنا، كذا في الملتقط. قال أصحابنا: الربيبة وغيرها في ذلك سواء هكذا في الذخيرة. والمباشرة عن شهوة بمنزلة القبلة وكذا المعانقة وهكذا في فتاوى قاضي خان. وكذا لو عضها بشهوة هكذا في الخلاصة( الی قولہ) ثم المس إنما يوجب حرمة المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب، أما إذا كان بينهما ثوب فإن كان صفيقا لا يجد الماس حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة وإن انتشرت آلته بذلك وإن كان رقيقا بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت، كذا في الذخيرة. وكذا لو مس أسفل الخف إلا إذا كان منعلا لا يجد لين القدم، كذا في فتاوى قاضي خان(1/ 274)۔