السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ ! کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں قرآن و سنت کی روشنی میں کہ: میری نانی نے مجھے بچپن میں دودھ پلایا ہے ، اور اس بات کی شاہد میری نانی جو کہ دودھ پلانے والی اور اس کا شوہر جو کہ میرے نانا ہیں ۔ کیا ان کے کہنے سے حرمت رضاعت ثابت ہوگی ؟ کیا اس صورت میں اپنے ماموں کے بیٹے سے شادی کرنا جائز و حلال ہے ؟
نوٹ : سائل کا ابھی تک نکاح نہیں ہوا ہے۔
سائل کے نانا اور نانی اگر عادل اور ثقہ ہوں ، جس کی گواہی دیگر معتبر لوگ بھی دیتے ہوں، کہ وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے ، تو ان کی گواہی معتبر ہے، اور ان کی گواہی کے ہوتے ہوئے سائل کے لیے اپنی ماموں زاد بہن سے نکاح کرنا جائز نہیں، اس لیے اس سے اجتناب لازم ہے۔
ففي حاشية ابن عابدين: (قوله وهي شهادة عدلين إلخ) أي من الرجال. وأفاد أنه لا يثبت بخبر الواحد امرأة كان أو رجلا قبل العقد أو بعده، وبه صرح في الكافي والنهاية تبعا، لما في رضاع الخانية: لو شهدت به امرأة قبل النكاح فهو في سعة من تكذيبها، لكن في محرمات الخانية إن كان قيله والمخبر عدل ثقة لا يجوز النكاح، وإن بعده وهما كبيران فالأحوط التنزه (إلی قوله) ويوفق بحمل الأول على ما إذا لم تعلم عدالة المخبر أو على ما في المحيط من أن فيه روايتين، ومقتضاه أنه بعد العقد لا يعتبر اتفاقا اھ (3/ 224)
و في الفتاوى الهندية: وإن كان المخبر واحدا ووقع في قلبه أنه صادق فالأولى أن يتنزه اھ (1/ 347)