اگر ایک شخص کے ایک لڑکی کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے ۔ تو اسکی دوسری سگی بہن سے نکاح جائز ہے ؟ اور اگر جائز ہے تو پہلی بہن کی سزا کیا ہے ؟ اور لڑکے کی سزا کیا ہے ؟
واضح ہو کہ حرمت مصاہرت سے لڑکی کے اصول و فروع لڑکے پر اور لڑکے کے اصول و فروع لڑکی پر حرام ہوتے ہیں ، ان کے علاوہ دیگر افراد سے شرعا نکاح جائز اور درست ہوتا ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں شخص مذکور کا اس عورت کی بہن سے نکاح شرعا جائز اور درست ہے، البتہ کسی غیر محرم سے ناجائز تعلقات رکھنا گناہ کبیرہ اور حرام ہے جس کی وجہ سے وہ دونوں سخت گناہ گار ہوئے ہیں، اگر اسلامی قانون نافذ العمل ہوتا اور ان کا جرم گواہوں کے ذریعہ یا ان کے خود کے اقرار سے ثابت ہوتا تو غیر شادی شدہ ہونے کی صورت میں سو کوڑے اور شادی شدہ ہونے کی صورت میں رجم کی سزا ہوتی۔ تا ہم دونوں پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ پر بصدق دل توبہ و استغفار کریں اور آئندہ کے لیے اس قسم کے ناجائز تعلقات سے مکمل اجتناب کریں۔
کما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: وحرم أيضا بالصهرية أصل مزنيته) قال في البحر: أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما في الوطء الحلال ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها. اهـ. (3/ 32)
و في الدر المختار: و في الخلاصة: وطئ أخت امرأته لا تحرم عليه امرأته اھ (3/ 34) والله اعلم بالصواب