کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ ایک مدرسہ ہے جس میں محلہ کی بچیاں اور بچے قرآن کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اس مدرسہ میں تین وقت تعلیم ہوتی ہے، بچے اور بچیاں مغرب کے وقت بھی آتے ہیں، اسی مدرسہ کا طالب علم مدرسہ میں تراویح میں قرآن سناتا ہے ، طالب علم کے پیچھے اس کے ساتھی اور محلے کے کچھ ساتھی تراویح پڑھتے ہیں، مدرسہ کے دوسرے کمرے میں جہاں بچیاں پڑھتی ہیں وہ اپنی جگہ پر پردے میں حافظ صاحب کی اقتداء میں تراویح پڑھتی ہیں، جو بچیاں پڑھتی ہیں اُن میں چند بچیوں کی والدہ بھی آکر پڑھتی ہیں پردہ میں۔
پوچھنا یہ ہے کہ جو خواتین تراویح پڑھنے آتی ہیں اُن کا یہاں آکر تراویح پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ براہِ کرم اس مسئلہ پر روشنی ڈالیں۔
فسادِ زمانہ کی بناء پر خواتین کے لیے مذکور طریقہ کے موافق تراویح کی نماز باجماعت پڑھنے کی غرض سے نکلنا بھی کراہت سے خالی نہیں، اس لیے ان کے حق میں بہتر اور افضل یہ ہے کہ وہ تنہا اور اپنے اپنے گھر تراویح پڑھنے کا اہتمام کریں کہ اس میں زیادہ اجر و ثواب ہے۔
ففی الدر المختار: (و) يكره تحريما (جماعة النساء) و لو التراويح في غير صلاة جنازة (إلی قوله) (و يكره حضورهن الجماعة) و لو لجمعة و عيد و وعظ (مطلقا) و لو عجوزا ليلا (على المذهب) المفتى به لفساد الزمان اھ(1/ 565،566)۔