محترم علماءِ کرام جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی!
السلام علیکم!
مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر نہ کی جائے تو اس کا کیا گناہ ہے؟ آپ علماءِ کرام سے درخواست ہے کہ مسئلہ کا مکمل جواب لکھ کر دے دیں۔ بندہ دعاگو رہےگا۔ والسلام
فرض نمازوں کے بعد امام و مقتدی یا منفرد کا دعا کرنا اور دعا میں ہاتھ اُٹھانا احادیثِ نبویہ ﷺ و روایاتِ فقہیہ سے ثابت ہے، جو کہ سنتِ مستحبہ ہے , پس امام اور مقتدی اس سنت پر اگر عمل کریں تو ضمناً خود بخود اجتماع ہو جائےگا ، اور یہ جائز ہے، ہاں! دعا آہستہ مانگنا افضل ہے، کیونکہ قرآن وسنت میں اس کی ترغیب دی گئی ہے ، اوراگر امام بآوازِ بلند دعا کرے اور مقتدی اس پر آمین کہے تو یہ بھی جائز ہے، اور شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں، کیونکہ فرائض کے بعد نفسِ دعا اور دعا میں ہاتھ کا اُٹھان ا، آمین کہنا ، اور دعا کے ختم پر دونوں ہاتھوں کا چہرے پر پھیرنا احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے، لہٰذا اس کو برا سمجھنا اور بدعتِ سیئہ کہنا اور گناہ قرار دینا صحیح نہیں۔
ففی سنن الترمذي: عن أبي أمامة ، قال: قيل يا رسول الله: أي الدعاء أسمع؟ قال: جوف الليل الآخر، و دبر الصلوات المكتوبات. اھ(5/ 404)۔
و فی التحفة المرغوبة فی أفضلیة الدعاء بعد المكتوبة: إنی قد سئلت عن الدعاء بعد المکتوبة ھل ھی سنة أم لا و ان الدعاء بعد المکتوبة ھل أفضل فیہ أن تكون الدعاء قبل السنة المؤکدة فی الصلاة التی بعدها سنة أو لا؟ فقلت إن الدعاء بعد المکتوبة سنة مستحبة لا یحسن ترکها لاسیما فی حق الإمام و جاز فیه أن یکون قبل السنة مالم یکن الدعاء طویلة فکتبت هذه الرسالة و أوردت فیها مایدل علی عدم کراهة الدعاء قبل السنة بل علی أنه الأفضل، من أحادیث النبی صلی اللہ علیه وسلم اھ (ص:۲۵۱)۔
و فی الفقه الإسلامي و أدلته: يسن ذكر الله و الدعاء المأثور عقب الصلاة، إما بعد الفريضة مباشرة إذا لم يكن لها سنة بعدية كصلاة الفجر و صلاة العصر، و إما بعد الانتهاء من السنة البعدية كصلاة الظهر و المغرب و العشاء؛ لأن الاستغفار يعوض نقص الصلاة، و الدعاء سبيل الحظوة بالثوا ب و الأجر بعد التقرب إلى الله بالصلاة. و يأتي بالأذكار سراً على الترتيب التالي إلا الإمام المريد تعليم الحاضرين فيجهر إلى أن يتعلموا، و يقبل الإمام على الحاضرين، جاعلاً يساره إلى المحراب اھ(2/ 991)۔
و في نور الإيضاح: القيام الى السنة متصلا بالفرض مسنون و عن شمس الأئمة الحلواني لا بأس بقراءة الأوراد بين الفريضة و السنة و يستحب للإمام بعد سلامه أن يتحول الى يساره للتطوع بعد الفرض و أن يستقبل بعده الناس و يستغفرون الله ثلاثا و يقرءون آية الكرسي و المعوذات و يسبحون الله ثلاثا وثلاثين و يحمدونه كذلك و يكبرونه كذلك ثم يقولون لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك و له الحمد و هو على كل شيء قدير ثم يدعون لأنفسهم و للمسلمين رافعي أيديهم ثم يمسحون بها وجوههم في آخره اھ(ص: 53)۔